پارہ 19 دیکھ رہے ہیں
پارہ 19 دیکھ رہے ہیں
Al-Furqan
.25
The Criterion
اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے1؟ یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے2؟ ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کرلی ہے.3
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناه گاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی1 اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے.2
اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا.1
البتہ اس دن جنتیوں کا ٹھکانا بہتر ہوگا اور خواب گاه بھی عمده ہوگی.1
اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا1 اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے.
اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا.
اور اس دن ﻇالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی راه اختیار کی ہوتی.
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا.1
اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراه کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے واﻻ ہے.
اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا.1
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناه گاروں کو بنادیا ہے1 اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے واﻻ اور مدد کرنے واﻻ کافی ہے.2
اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا1 اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے.2
یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے.1
جو لوگ اپنے منھ کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ وہی بدتر مکان والے اور گمراه تر راستے والے ہیں.
اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراه ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا.
اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں بالکل ہی پامال کردیا.
اور قوم نوح نے بھی جب رسولوں کو جھوٹا کہا تو ہم نے انہیں غرق کردیا اور لوگوں کے لیے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ اور ہم نے ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے.
اور عادیوں اور ﺛمودیوں اور کنوئیں والوں کو1 اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو2 (ہلاک کردیا).
اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباه و برباد کردیا.1
یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح کی بارش برسائی گئی1۔ کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مرکر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں.2
اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ کہ کیا یہی وه شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے.1
(وه تو کہیئے) کہ ہم اس پر جمے رہے ورنہ انہوں نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی1۔ اور یہ جب عذابوں کو دیکھیں گے تو انہیں صاف معلوم ہوجائے گا کہ پوری طرح راه سے بھٹکا ہوا کون تھا؟2
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہدار ہوسکتے ہیں؟1
کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے.1
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے1؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا2۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا.3
پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا.1
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرده بنایا1۔ اور نیند کو راحت بنائی2۔ اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت.3
اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں.1
تاکہ اس کے ذریعے سے مرده شہر کو زنده کردیں اوراسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں.
اور بے شک ہم نے اسےان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ1 وه نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں.2
اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے واﻻ بھیج1 دیتے.
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں.1
اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا1، اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی.2
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا1۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے.
یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں کوئی نفع دے سکیں نہ کوئی نقصان پہنچاسکیں، اور کافر تو ہے ہی اپنے رب کے خلاف (شیطان کی) مدد کرنے واﻻ.
ہم نے تو آپ کو خوشخبری اور ڈر سنانے واﻻ (نبی) بنا کر بھیجا ہے.
کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے.1
اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وه اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے.
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اوران کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کردیا ہے، پھر عرش پر مستوی ہوا، وه رحمٰن ہے، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں.
ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا.1
بابرکت ہے وه جس نے آسمان میں برج بنائے1 اور اس میں آفتاب بنایا اور منور مہتاب بھی.
اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے واﻻ بنایا1۔ اس شخص کی نصیحت کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اراده رکھتا ہو.
رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے.1
اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں.
اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے.1
بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے.
اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں.1
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے1، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں2 اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا.
اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا.
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں1، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے2، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے.
اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وه تو (حقیقتاً) اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے.1
اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے1 اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں.2
اور جب انہیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔.1
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا.1
یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا.
اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے.
کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا1، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی.2
طٰسم.
یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں.*
ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.1
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.1
اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.
ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.1
کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟1
بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے1 اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.2
اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.1
اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.1
قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.
اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے1 میری زبان چل نہیں رہی2 پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.3
اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.1
جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ1 ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.2
تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.
کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے. 1
فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟1 اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟2
پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.1
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.1
پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.1
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.1
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟1
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.
فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟1
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.
فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب1 ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.1
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟1
فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.
آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.1
اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.1
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.1
یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.1
ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.1
پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.1
اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟1
تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.
جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟
فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.1
انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.1
اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.
اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.
یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے1، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.2
انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں1، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں1 ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.1
فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.
کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.1
اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.1
اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.1
بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.
اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.1
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.1
پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.1
پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.1
موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.1
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار1، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.2
اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.1
اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.
پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.1
یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.1
اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.
جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.1
آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.1
انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.1
آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی1 ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.
تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں.1
بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.1
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.1
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.1
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.1
اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا 1
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.1
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ1 عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.
اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.1
مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.
اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.1
اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.1
جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.
لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.1
اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.
اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.1
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے1، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.2
پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.1
اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر1 بھی، وہاں.
آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.
کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.
جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.1
اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.1
اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.
اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.1
اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.1
یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے1 ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.2
یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.
قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.1
جبکہ ان کے بھائی1 نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.1
پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.1
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.1
پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.1
قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.1
آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟1
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ1 ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.1
میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.1
انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.
پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.
چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.
بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.1
یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.
اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.
عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.1
جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود1 نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.1
اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.1
اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.1
اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.1
اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.
اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.
باغات سے اور چشموں سے.
مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.1
انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.1
اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.1
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا1 یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.
ﺛمودیوں1 نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.
میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.
تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.
کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.1
یعنی ان باغوں اور ان چشموں.
اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.1
اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.1
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
بے باک حد سے گزر جانے والوں کی1 اطاعت سے باز آجاؤ.
جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.
وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.
تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.
آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.1
(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.1
پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں1، بس وه پشیمان ہوگئے.2
اور عذاب نے انہیں آ دبوچا1۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.
قوم لوط1 نے بھی نبیوں کو جھُٹلایا.
ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.
کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.
اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو1، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.2
انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.1
آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں. 1
میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.
پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.
بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.1
پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.
اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.1
یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.
بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا 1
جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.
ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.1
اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.1
لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو1 بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.2
اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.1
انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.
اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.1
اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.1
کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.1
چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا1۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.
اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.1
آپ کے دل پر اترا ہے1 کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.2
صاف عربی زبان میں ہے.
اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.1
کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.1
اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.
پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.1
اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.1
وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.
پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.
اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟1
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟1
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.
پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.1
ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.
نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.1
اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.
نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.1
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.1
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.
اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.
جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.
اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.1
وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.
وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.1
(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.1
شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.
اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.1
سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے1 اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا2، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.3
طٰس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی (یعنی واضح) اور روشن کتاب کی.
ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لیے.
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں.1
جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں ﻻتے ہم نے انہیں ان کے کرتوت زینت دار کر دکھائے1 ہیں، پس وه بھٹکتے پھرتے ہیں.2
یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وه سخت نقصان یافتہ ہیں.
بیشک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایا جارہا ہے.
(یاد ہوگا) جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارا لے کر ابھی تمہارے پاس آ جاؤں گا تاکہ تم سینک تاپ کر لو.1
جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وه جو اس آگ میں ہے اور برکت دیاگیا ہے وه جس کے آس پاس ہے1 اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے.2
موسیٰ! سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب1 با حکمت.
تو اپنی ﻻٹھی ڈال دے، موسیٰ نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وه ایک سانﭗ ہے تو منھ موڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ! خوف نہ کھا1، میرے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے.
لیکن جو لوگ ﻇلم کریں1 پھر اس کے عوض نیکی کریں اس برائی کے پیچھے تو میں بھی بخشنے واﻻ مہربان ہوں.2
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وه سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے1، تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جا2، یقیناً وه بدکاروں کا گروه ہے.
پس جب ان کے پاس آنکھیں کھول دینے والے1 ہمارے معجزے پہنچے تو وه کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے.
انہوں نے انکار کردیا حاﻻنکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر1۔ پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرداز لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا.
اور ہم نے یقیناً داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا1۔ اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے.
اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے1 اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے2 اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ