پارہ 21 دیکھ رہے ہیں
پارہ 21 دیکھ رہے ہیں
Al-'Ankabut
.29
The Spider
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو1 مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں2 اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی3، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں.
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں1 اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں2 اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں.
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے1 اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے2 تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے.3
بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں1، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں.
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں1 میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں.
کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے1، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں.2
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے1 وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے2 ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں.3
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں1۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا2، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا.3
یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے.1
اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ1 فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو.
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو.1
ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہےاور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.1
اور جولوگ ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان باﻻ خانوں میں جگہ دینگے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں1 جہاں وه ہمیشہ رہیں گے2، کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے.
وه جنہوں نے صبر کیا1، اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں.2
اور بہت سے1 جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے2، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے3، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے.4
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ1، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں.2
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ1۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے.2
اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں.1
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے1 البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے2، کاش! یہ جانتے ہوتے.3
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں.1
تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں1۔ ابھی ابھی پتہ چل جائے گا.
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں1، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں.2
اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے1 یا جب حق اس کے پاس آجائے وه اسے2 جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟
اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں1 ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے2۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے.3
الم.
رومی مغلوب ہوگئے ہیں.
نزدیک کی زمین پر اور وه مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے.
چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے.
اللہ کی مدد سے1، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے.
اللہ کا وعده ہے1، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.
وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ﻇاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بےخبر ہیں.1
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے1 سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں.2
کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا1 کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا2؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے3 اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی4 اور ان سے زیاده آباد کی تھی5 اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے6۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان7 پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے.8
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا1، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے.
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے1 پھر وہی اسے دوباره پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے.2
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زده ره جائیں گے.1
اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا1 اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے.2
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی.1
جو ایمان ﻻکر نیک اعمال کرتے رہے وه تو جنت میں خوش وخرم کر دیئے جائیں گے.1
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے.1
پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو.
تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو).1
(وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے1۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے.2
اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو.1
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں1 تاکہ تم ان سے آرام پاؤ2 اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی3، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے1، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں.
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے1۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا1 ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے.1
اور زمین وآسمان کی ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے.1
وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے1، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے.
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وه اس میں برابر درجے کے ہو1؟ اور تم ان کا ایسا خطره رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا2، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں.3
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے1 خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے2، ان کا ایک بھی مددگار نہیں.3
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں1۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے2، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے3 لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.4
(لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ.1
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے1 ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.2
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے.
تاکہ وه اس چیز کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہے1 اچھا تم فائده اٹھا لو! ابھی ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا.
کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں.1
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں.1
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ1، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں.
پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے1، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں2، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں.
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا1۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں.2
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زنده کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں.
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.1
زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے.1
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں1، اس دن سب متفرق2 ہو جائیں گے.
کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہوگا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاه سنوار رہے ہیں.1
تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان ﻻئے اور نیک1 اعمال کیے وه کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی1 ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے2، اور اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں3، اور اس لئے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو4، اور اس لئے کہ تم شکر گزاری کرو.5
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان کے پاس دلیلیں ﻻئے۔ پھر ہم نے گناه گاروں سے انتقام لیا۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا ﻻزم ہے.1
اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں، اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وه خوش خوش ہو جاتے ہیں 1
یقین ماننا کہ بارش ان پر برسنے سے پہلے پہلے تو وه ناامید ہو رہے تھے.
پس آپ رحمت الٰہی کے آﺛار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زنده کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زنده کرنے واﻻ ہے1، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے.
اور اگر ہم باد تند چلا دیں اور یہ لوگ انہی کھیتوں کو (مرجھائی ہوئی) زرد پڑی ہوئی دیکھ لیں تو پھر اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں.1
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے1 اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں2 جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں.3
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے1 ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے2 ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں.3
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت1 میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی2 دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا3 جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے4، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے.
اور جس دن قیامت1 برپا ہو جائے گی گناه گار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی2 کے سوا نہیں ٹھہرے، اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے.3
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا وه جواب دیں گے1 کہ تم تو جیسا کہ کتاب اللہ میں2 ہے یوم قیامت تک ٹھہرے رہے3۔ آج کا یہ دن قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم تو یقین ہی نہیں مانتے تھے.4
پس اس دن ﻇالموں کو ان کا عذر بہانہ کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان سے توبہ اور عمل طلب کیا جائے گا.1
بیشک ہم نےاس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں1۔ آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی ﻻئیں2، یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بے ہوده گو) بالکل جھوٹے ہو.3
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے یوں ہی مہر کر دیتا ہے.
پس آپ صبر کریں1 یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے.
الم.1
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں.
جو نیکو کاروں کے1 لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے.
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں.1
یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں.1
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں1 کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں2، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.3
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں1، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے.
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں.
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده1 ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے.
اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم انہیں دیکھ رہے1 ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وه تمہیں جنبش نہ دے2 سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلا دیئے3۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسا کر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیئے.4
یہ ہے اللہ کی مخلوق1 اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ2 (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں.
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی1 تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر2 ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے.
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا1 بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے.2
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی1 ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر2 اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے3 کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.
اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا1 ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا.2
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو1 پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے.
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا1 (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے.
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا1 اور زمین پر اترا کر نہ چل2 کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا.
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر1، اور اپنی آواز پست کر2 یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے.
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے1 اور تمہیں اپنی ﻇاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں2، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں.3
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق1 پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو.
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے1 اور ہو بھی وه نیکو کار2 یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا3، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے.
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں1، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں2 کے بھیدوں3 تک سے واقف ہے.
ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے.1
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ1، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے2، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں.
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے1 یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز2 اور سزاوار حمد وﺛنا ہے.3
روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے1، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے.
تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا1، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے.
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے1، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے2، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے.
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں1 سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے.2
کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے1، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے2 کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں1۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں2، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں.3
لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے واﻻ ہوگا1 (یاد رکھو) اللہ کا وعده سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے.
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا1۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے.
الم.
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے.1
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے1۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا2۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں.3
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا1، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں2۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.3
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے1۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.2
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان.
جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی1 اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی.2
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی.1
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی1، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے2 (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.3
انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں1 گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں.
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے1. پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں1 گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب2 تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.3
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب1 فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا.2
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا1 اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو.
ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں1 جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں2 اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں3 اور تکبر نہیں کرتے ہیں.4
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں1 اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں2 اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں.3
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے1، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.2
کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو1؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے.
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے1۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ2 اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو.
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب1 اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں.2
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر1 بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں.
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک1 نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے2 بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا.
اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے.1
آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں.1
کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں1۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں1، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ).1
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.1
اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں1 اور منتظر رہیں2۔ یہ بھی منتظر ہیں.3
اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا1 اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ اور بڑی حکمت واﻻ ہے.2
جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے1 اس کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے.2
آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں1، وه کار سازی کے لئے کافی ہے.2
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے1، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں2 بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے3، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں4، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے5 اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے.
لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی1 ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں2، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں3، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو4۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے1 ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں2، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں3 (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو4۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے.5
جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا.1
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے1، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں1، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.
جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے1 اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے.2
یہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے.1
اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا.1
ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو1! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو2، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں3، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا.4
اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت.1
اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے1، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور2 ہوگی.
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے.1
پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)1، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار.
اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس1 چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں.2
تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں1، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو2۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں3 مال کے بڑے ہی حریص ہیں4، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں5 اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں6، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے.7
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے1، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے2، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام.3
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے1، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے.2
اور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا1، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا.2
مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا1، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر2 دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی.3
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے1، اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ بہت ہی مہربان ہے.
اور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا1، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا2 اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے.
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو.
اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا1 اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں2، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں.
اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں.1
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا1، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ