پارہ 22 دیکھ رہے ہیں
پارہ 22 دیکھ رہے ہیں
Al-Ahzab
.33
The Combined Forces
اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے1 اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے.
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو1، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وه کوئی برا خیال کرے2 اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو.3
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو1 اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو2 اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو3۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو4! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے.
اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیﺚ پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو1، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے.
بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں1 مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے.
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا1، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا.
(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے1، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی2 ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا3 تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وه اپنی غرض ان سے پوری کرلیں4، اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے واﻻ تھا.5
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں1، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے2 اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں.3
یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے1، اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے.2
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں1 لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے2، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے.
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو.
اور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو.
وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے.
جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا1، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے.
اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ1، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے.
اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ.1
آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے.
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ.
اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو1، پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دو2 اور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو.3
اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے1 اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں2 اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے3، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے4، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں5، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں6، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو7، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے.
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے1، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں2، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں3۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے4۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے.
اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر1 جو تیری مملوکہ ہوں2۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے.
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا1، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو2۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے3، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو4 اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے.5
تم کسی چیز کو ﻇاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے واﻻ ہے.
ان عورتوں پر کوئی گناه نہیں کہ وه اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں1۔ (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر شاہد ہے.2
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو.1
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے.1
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں.1
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں1، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی2، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
اگر (اب بھی) یہ منافق اور وه جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وه لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں1 باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کردیں گے پھر تو وه چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں ره سکیں گے.
ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں.1
ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردوبدل نہ پائے گا.
لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو.
اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے.
جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وه کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے.
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرتے.
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا.1
پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما.
اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا1، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے.
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو.1
تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے1، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی.
ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا1، وه بڑا ہی ﻇالم جاہل ہے.2
(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے1، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ اور مہربان ہے.
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے1 آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے2، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے.
جو زمین میں جائے1 اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے2 اور جو چڑھ کر اس میں جائے3 وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش واﻻ ہے.
کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وه یقیناً تم پر آئے گی1 اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیده نہیں2 نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی چیز کھلی کتاب میں موجود ہے.3
تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے1، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے.
اور ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی جنہوں نے1 کوشش کی ہے یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے.
اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے1 اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے.2
اور کافروں نے کہا1 (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں2 جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے3 کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.4
(ہم نہیں کہہ سکتے) کہ خود اس نے (ہی) اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے دیوانگی ہے1 بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے ہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں ہیں.2
کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں1؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں2، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو.
اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا1، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی2 (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا.3
کہ تو پوری پوری زرہیں بنا1 اور جوڑوں میں اندازه رکھ2 تم سب نیک کام کیا کرو3۔ (یقین مانو) کہ میں تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں.
اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی1 اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا2۔ اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزه چکھائیں گے.3
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں1، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں.
پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے.1
قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی1 ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے2 (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ3 اور اس کا شکر ادا کرو4، یہ عمده شہر5 اور وه بخشنے واﻻ رب ہے.6
لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزه میوؤں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے.1
ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں.
اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی1 چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں جو برسرراه ﻇاہر تھیں، اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں2 ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن وامان چلتے پھرتے رہو.3
لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے1 چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا2 اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے3۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں.
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے.
شیطان کا ان پر کوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا مگر اس لئے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ﻇاہر کردیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں۔ اور آپ کا رب (ہر) ہر چیز پر نگہبان ہے.
کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو1، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے2 نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے3 نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے.4
شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے1۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا 2اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے.
پوچھیئے کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے؟ (خود) جواب دیجیئے! کہ اللہ تعالیٰ۔ (سنو) ہم یا تم۔ یا تو یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں؟1
کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی.
انہیں خبر دے دیجیئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرکے پھر ہم میں سچے فیصلے کردے گا1۔ وه فیصلے چکانے واﻻ ہے اور دانا.
کہہ دیجیئے! کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں1، بلکہ وہی اللہ ہے غالب باحکمت.
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے.1
پوچھتے ہیں کہ وه وعده ہے کب؟ سچے ہو تو بتا دو.1
جواب دیجیئے کہ وعدے کا دن ٹھیک معین ہے جس سے ایک ساعت نہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو.1
اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو1! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے2 کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے3 اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے.4
یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے.1
(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا1، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے2، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے3 انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا.4
اور ہم تو جس بستی میں جو بھی آگاه کرنے واﻻ بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے ساتھ کفر کرنے1 والے ہیں.
اور کہا ہم مال واوﻻد میں بہت بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عذاب دیئے جائیں.1
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے1، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.
اور تمہارے مال اور اوﻻد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں1 ہاں جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں2 ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے3 اور وه نڈر و بےخوف ہو کر باﻻ خانوں میں رہیں گے.
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے.
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے1، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا2 اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے.3
اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے.1
وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ1 بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے2، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا.
پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا1۔ اور ہم ﻇالموں2 سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے.
اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے1 جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے۔ (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے2 اور حق ان کے پاس آچکا پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے.3
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا.1
اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا.1
کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں1، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے.2
کہہ دیجیئے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وه تمہارے لئے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے1۔ وه ہر چیز سے باخبر (اور مطلع) ہے.
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه 1ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے.
کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا.1
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا1 ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے.2
اور اگر آپ (وه وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی1 اور قریب کی جگہ سے گرفتار کر لئے جائیں گے.
اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ 1آسکتی ہے.
اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا، اور دور دراز سے بن دیکھے ہی پھینکتے رہے.1
ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا1 جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا2، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.3
اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداءً) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ1 اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے واﻻ ہے2، مخلوق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے3 اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے.
اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے واﻻ نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے واﻻ نہیں1 اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.
لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو.1
اور اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی جھٹلائے جاچکے ہیں۔ تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں.1
لوگو! اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے1 تمہیں زندگانیٴ دنیا دھوکے میں نہ ڈالے2، اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں غفلت میں ڈالے.3
یاد رکھو! شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانو1 وه تو اپنے گروه کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وه سب جہنم واصل ہو جائیں.
جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر ہے.1
کیا پس وه شخص جس کے لئے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں پس وه انہیں اچھاسمجھتا1 ہے (کیا وه ہدایت یافتہ شخص جیسا ہے)، (یقین مانو) کہ اللہ جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے راه راست دکھاتا ہے2۔ پس آپ کو ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہیئے3، یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخوبی واقف ہے.4
اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کردیتے ہیں۔ اسی طرح دوباره جی اٹھنا (بھی) ہے.1
جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے1، تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں2 اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے3، جو لوگ برائیوں کے داؤں گھات میں لگے رہتے ہیں4 ان کے لئے سخت تر عذاب ہے، اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا.5
لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے1، پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد وعورت) بنا دیا ہے، عورتوں کو حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے2، اور جو بڑی عمر واﻻ عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وه سب کتاب میں لکھا ہوا ہے3۔ اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے.
اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا پینے میں خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا، تم ان دونوں میں سے تازه گوشت کھاتے ہو اور وه زیوارت نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کشتیاں پانی کو چیرنے پھاڑنے1 والی ان دریاؤں میں ہیں تاکہ تم اس کا فضل ڈھونڈو اور تاکہ تم اس کا شکر کرو.
وه رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب وماہتاب کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے۔ یہی ہے اللہ1 تم سب کا پالنے واﻻ اسی کی سلطنت ہے۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں.2
اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں1 اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے2، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے3۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.4
اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو1 اور اللہ بےنیاز2 خوبیوں واﻻ ہے.3
اگر وه چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کردے.1
اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں.
کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا1، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو2۔ تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں3 اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا4۔ لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے.
اور اندھا اور آنکھوں واﻻ برابر نہیں.
اور نہ تاریکی اور روشنی.1
اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ.1
اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے1، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے2، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں.3
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں.1
ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈر سنانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو.
اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے.1
پھر میں نےان کافروں کو پکڑ لیا سو میرا عذاب کیسا ہوا.1
کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے1 اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاه.2
اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں1، اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں2 واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے.3
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں1 اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں2 اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے3 ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی.4
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے1 بےشک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے.2
اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک1 ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے واﻻ خوب دیکھنے واﻻ ہے.3
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب1 کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں2 اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں3 اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں4۔ یہ بڑا فضل ہے.5
وه باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے1 کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے۔ اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی.2
اور کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے واﻻ بڑا قدردان ہے.
جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں ﻻ اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی.
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا ہی آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں.
اور وه لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے1، (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا2 وه سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے واﻻ بھی پہنچا تھا3، سو مزه چکھو کہ (ایسے) ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں.
بےشک اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیده چیزوں کا1، بےشک وہی جاننے واﻻ ہے سینوں کی باتوں کا.2
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے.1
آپ کہیئے! کہ تم اپنے قرارداد شریکوں کا حال تو بتلاؤ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کون سا (جزو) بنایا ہے یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں1، بلکہ یہ ﻇالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعده کرتے آتے ہیں.2
یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وه ٹل نہ جائیں1 اور اگر وه ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا2۔ وه حلیم غفور ہے.3
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں1۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے2 تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے1، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے2 اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے3، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے4۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے5، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے.6
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حاﻻنکہ وه قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وه بڑے علم واﻻ، بڑی قدرت واﻻ ہے.
اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا1، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے2، سو جب ان کی وه میعاد آپہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا.3
یٰس.1
قسم ہے قرآن باحکمت کی.1
کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں.1
سیدھے راستے پر ہیں.1
یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے.1
تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں.1
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے.1
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں.1
اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی1، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے.
اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں ﻻئیں گے.1
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں1 جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے.
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے1، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں2 اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے.3
اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجیئے جب کہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے.1
جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں.1
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو.
ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بےشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں.
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں1۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی.
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی1 ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو.
اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راه پر چلو.1
ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں.
اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے.1
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ وه مجھے بچا سکیں.1
پھر تو میں یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں.1
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا.1
(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا.
کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں سے کر دیا.1
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ