پارہ 23 دیکھ رہے ہیں
پارہ 23 دیکھ رہے ہیں
Ya-Sin
.36
Ya Sin
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا1، اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں.2
وه تو صرف ایک زور کی چیﺦ تھی کہ یکایک وه سب کے سب بجھ بجھا گئے.1
(ایسے) بندوں پر افسوس1! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو.
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان کے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وه ان1 کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے.
اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وه جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی.1
اور ان کے لئے ایک نشانی1 (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زنده کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وه کھاتے ہیں.
اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے1، اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں.
تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں1، اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا2۔ پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے.
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں.1
اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وه یکایک اندھیرے میں ره جاتے ہیں.1
اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے1۔ یہ ہے مقرر کرده غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا.
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں1، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے.2
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے1 اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے2، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں.3
اور ان کے لئے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا.1
اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں.1
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں.
لیکن ہم اپنی طرف سے رحمت کرتے ہیں اور ایک مدت تک کے لئے انہیں فائدے دے رہے ہیں.
اور ان سے جب (کبھی) کہا جاتا ہے کہ اگلے پچھلے (گناہوں) سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.
اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں.1
اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو1، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا2، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں.3
وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ.
انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے.1
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے.
تو صور کے پھونکے جاتے ہی سب1 کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے.
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا1۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا.
یہ نہیں ہے مگر ایک چیﺦ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے.
پس آج کسی شخص پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں نہیں بدلہ دیا جائے گا، مگر صرف ان ہی کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے.
جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں.1
وه اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے.
ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں.
مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا.1
اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ.1
اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا1، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے.2
اور میری ہی عبادت کرنا1۔ سیدھی راه یہی ہے.2
شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے.1
یہی وه دوزخ ہے جس کا تمہیں وعده دیا جاتا تھا.
اپنے کفر کا بدلہ پانے کے لئے آج اس میں داخل ہوجاؤ.1
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے1 تھے.
اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟1
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسﺦ کر دیتے پھر نہ وه چل پھر سکتے اور نہ لوٹ سکتے.1
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے1 ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے.2
نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے.1
تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے.1
کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی1 ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے2 (بھی) پیدا کر دیئے، جن کے یہ مالک ہوگئے ہیں.3
اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کا تابع فرمان بنا دیا ہے1 جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں.
انہیں ان سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں1، اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟
اور وه اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وه مدد کئے جائیں.1
(حاﻻنکہ) ان میں ان کی مدد کی طاقت ہی نہیں، (لیکن) پھر بھی (مشرکین) ان کے لئے حاضر باش لشکری ہیں.1
پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں.
کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا.
اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟
آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے1، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے.
وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو.1
جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وه ان جیسوں1 کے پیدا کرنے پرقادر نہیں، بےشک قادر ہے۔ اور وہی تو پیدا کرنے واﻻ دانا (بینا) ہے.
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے.1
پس پاک ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور1 جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے.2
قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی.
پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی.
پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی.
یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے.1
آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے.1
ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا.
اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے.1
عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں.
بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے.
مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے.
ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا1؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے.2
بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں.1
اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے.
اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں.
اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے.1
کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟
کیا ہم سے پہلے کے ہمارے باپ دادا بھی؟
آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے.1
وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے1 کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے.2
اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے.
یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے.1
ﻇالموں کو1 اور ان کے ہمراہیوں کو2 اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے.3
(ان سب کو) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راه دکھا دو.
اور انہیں ٹھہرا لو1، (اس لئے) کہ ان سے (ضروری) سوال کیے جانے والے ہیں.
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے.
بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے.
وه ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال وجواب کرنے لگیں گے.
کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے.1
وه جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان والے نہ تھے.1
اور کچھ ہمارا زور تو تم پر تھا (ہی) نہیں۔ بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے.1
اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں.
پس ہم نے تمہیں گمراه کیا ہم تو خود بھی گمراه ہی تھے.1
سو اب آج کے دن تو (سب کے سب) عذاب میں شریک ہیں.1
ہم گناه گاروں کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے ہیں.1
یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے.1
اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟1
(نہیں نہیں) بلکہ (نبی) تو حق (سچا دین) ﻻئے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں.1
یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزه) چکھنے والے ہو.
تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے.1
مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیده بندے.1
انہیں کے لئے مقرره روزی ہے.
(ہر طرح کے) میوے، اور وه باعزت واکرام ہوں گے.
نعمتوں والی جنتوں میں.
تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے.
جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا.1
جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی.1
نہ اس سے درد سر ہو اور نہ اس کے پینے سے بہکیں.1
اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی.1
ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے.1
(جنتی) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھیں گے.1
ان میں سے ایک کہنے واﻻ کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا.
جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟1
کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟1
کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟1
جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا.
کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے.
اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا.1
کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟1
بجز پہلی ایک موت1 کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں.
پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے.1
ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.1
کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟1
جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے.1
بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے.1
جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں.1
(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے.1
پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی.1
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا.1
یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا.
اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے.1
ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں.1
جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے.1
اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا.
سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے.1
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں.1
ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو1 اس زبردست مصیبت سے بچا لیا.
اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی.1
اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا.1
نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.1
وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا.
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا.
اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.1
جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے.
انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟
کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟1
تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟1
اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی.
اور کہا میں تو بیمار ہوں.1
اس پر وه سب اس سے منھ موڑے ہوئے واپس چلے گئے.
آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟1
تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ہو.
پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے.1
وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ1 ہوئے.
تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو.
حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے.1
وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو.
انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا.1
اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں1۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا.
اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما.
تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی.1
پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے1، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے2؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.
غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی1 کے بل گرا دیا.
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!
یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا1، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا.1
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا.1
اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا.
ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو.
ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.
بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا.
اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا.1
اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں1، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں.2
یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا.1
اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی.1
اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے.
اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی.
اور انہیں سیدھے راستہ پرقائم رکھا.
اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی.
کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو.
بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلے دیا کرتے ہیں.
یقیناً یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے.
بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے1
جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟1
کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟
اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے.1
لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے1 جائیں گے.
سوائے اللہ تعالی کے مخلص بندوں کے.
ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا.
کہ الیاس پر سلام ہو.1
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.*
بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے.1
بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے.
ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی.
بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے ره جانے والوں میں سے ره گئی.1
پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کر دیا.
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو.
اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟1
اور بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نبیوں میں سے تھے.
جب بھاگ کر پہنچے بھری کشتی پر.
پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے.
تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت1 کرنے لگ گئے.
پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے.
تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے.1
پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے.1
اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت1 ہم نے اگا دیا.
اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیاده آدمیوں کی طرف بھیجا.
پس وه ایمان ﻻئے1، اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش وعشرت دی.
ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟
یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا.1
آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں.
کہ اللہ تعالی کی اوﻻد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں.
کیا اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی.1
تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسے حکم لگاتے پھرتے ہو؟
کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے؟1
یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے.
تو جاؤ اگر سچے ہو تو اپنی ہی کتاب لے آؤ.1
اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی1 ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے.2
جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے.
سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے.1
یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان (باطل).
کسی ایک کو بھی بہکا نہیں سکتے.
بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے.1
(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے.1
اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں.
اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں.1
کفار تو کہا کرتے تھے.
کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا.
تو ہم بھی اللہ کے چیده بندے بن جاتے.1
لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے1، پس اب عنقریب جان لیں گے.2
اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے.
کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے.
اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا.1
اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے.1
اور انہیں دیکھتے رہیئے1، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے.
کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا1 بڑی بری صبح ہوگی.
آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے.
اور دیکھتے رہئیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے.1
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں.1
پیغمبروں پر سلام ہے.1
اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے.1
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم.1
بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں.1
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ1 انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا.2
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا1 اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے.2
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے.1
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو1، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے.2
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی1، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے.2
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے1؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں2، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں.3
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں.1
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں.1
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے.1
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون1 نے جھٹلایا تھا.
اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں 1نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے.
ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی.
انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار1 ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے.2
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے.1
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا1، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا.
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں.
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے.1
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا1 اور اسے حکمت دی تھی2 اور بات کا فیصلہ کرنا.3
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے.1
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے1، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے.2
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے1 اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے2 اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے.3
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے1 ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں2 اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے3 اور (پوری طرح) رجوع کیا.
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا1، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں.
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے.
اور ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا1، یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی.
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں.
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا.
جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے.1
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا.
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.1
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر1 اس نے رجوع کیا.
کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے ﻻئق نہ ہو1، تو بڑا ہی دینے واﻻ ہے.
پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی.1
اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو.
اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے.1
یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں.1
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے.1
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے.1
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے.1
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے1، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے.2
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر1، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ.
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے1 تھے.
ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا.1
یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے.
اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ1 تھے.
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے.
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں.
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں.
اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی.1
یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا.
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں.1
یہ تو ہوئی جزا1، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے2 بڑی بری جگہ ہے.3
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے.
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ.1
اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب.1
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے1، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے2 یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں.3
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا1، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے.
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو1 اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے.2
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے.1
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ