پارہ 25 دیکھ رہے ہیں
پارہ 25 دیکھ رہے ہیں
Fussilat
.41
Explained in Detail
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے1 اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے2 اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں.3
اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وه ان کی نگاه سے گم ہوگئے1 اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں.2
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں1 اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے.2
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار1 ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری2 ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے.
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے1 اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے.2
آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا1 جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے.2
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے1، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں.2
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں1، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے.2
حٰم.
عسق.
اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت واﻻ ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا.1
آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وه برتر اور عظیم الشان ہے.
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں1 اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں2۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے.3
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنالیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران1 ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں.2
اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے1 تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کردیں2 اور جمع ہونے کے دن سے جس3 کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈرا دیں۔ ایک گروه جنت میں ہوگا اور ایک گروه جہنم میں ہوگا.4
اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت کا بنا دیتا1 لیکن وه جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ﻇالموں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں.
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنالیے ہیں، (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مُردوں کو زنده کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے.1
اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے1، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں.
وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں1 اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں2 تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے3 اس جیسی کوئی چیز نہیں4 وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے.
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ہیں1، جس کی چاہے روزی کشاده کردے اور تنگ کردے، یقیناً وه ہر چیز کو جاننے واﻻ ہے.
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا1، کہ اس دین کو قائم رکھنا2 اور اس میں پھوٹ نہ3 ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وه تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے4، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے5 اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اس کی صحیح ره نمائی کرتا ہے.6
ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا (اور وه بھی) باہمی ضد بحﺚ سے1 اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وه بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں.2
پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی1 سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں2 اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں3۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں4 اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے.
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی1 ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے2، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے.
اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے اور ترازو بھی (اتاری ہے)1 اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب2 ہی ہو.
اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے1 اور جو اس پر یقین رکھتے ہیں وه تو اس سے ڈر رہے ہیں2 انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے۔ یاد رکھو جو لوگ قیامت کے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں3، وه دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں.4
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے واﻻ ہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ واﻻ ہے.
جس کا اراده آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے1 اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے2، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں.3
کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں1۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان) ﻇالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے.
آپ دیکھیں گے کہ یہ ﻇالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے1 جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں2، اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وه بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وه جو خواہش کریں اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل.
یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی1، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے2۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے.3
کیا یہ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگادے1 اور اللہ تعالیٰ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے2 اور سچ کو ﺛابت رکھتا ہے۔ وه سینے کی باتوں کو جاننے واﻻ ہے.
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے1 اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے.
ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے1 اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے.
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد1 برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے.
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا1 اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا.2
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے.1
تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کابدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے.1
اور تم ہمیں زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو1، تمہارے لیے سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار.
اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں.1
اگر وه چاہے تو ہوا بند کردے اور یہ کشتیاں سمندروں پر رکی ره جائیں۔ یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکرگزار کے لیے نشانیاں ہیں.
یا انہیں ان کے کرتوتوں کے باعﺚ تباه کردے1، وه تو بہت سے خطاؤں سے درگزر فرمایا کرتا ہے.2
اور تاکہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں1 وه معلوم کرلیں کہ ان کے لیے کوئی چھٹکارا نہیں.2
تو تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے1، اور اللہ کے پاس جو ہے وه اس سے بدرجہ بہتر2 اور پائیدار ہے، وه ان کے لیے ہے جو ایمان ﻻئے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں.
اور کبیره گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کردیتے ہیں.1
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں1 اور نماز کی پابندی کرتے ہیں2 اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے3، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں.
اور جب ان پر ﻇلم (و زیادتی) ہو تو وه صرف بدلہ لے لیتے ہیں.1
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے1، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا.
اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام کا) کوئی راستہ نہیں.
یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ﻇلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے.
اور جو شخص صبر کر لے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے.
اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چاره ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ﻇالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راه ہے.
اور تو انہیں دیکھے گا کہ وه (جہنم کے) سامنے ﻻکھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جارہے ہوں گے اور کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، ایمان والے صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاںکار وه ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ یقیناً ﻇالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں.1
ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کرسکیں اور جسے اللہ گمراه کردے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں.
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن1 ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی.2
اگر یہ منھ پھیرلیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے1، ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزه چکھاتے ہیں2 تو وه اس پر اترا جاتا ہے3 اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت4 پہنچتی ہے تو بےشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے.5
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے1 جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے.
یا انہیں جمع کردیتا ہے1 بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے.
ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی1 کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے.
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے1، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے2؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں3، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں.
اس اللہ کی راه کی1 جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاه رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں.2
حٰم.
قسم ہے اس واضح کتاب کی.
ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے1 کہ تم سمجھ لو.
یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت1 والی ہے.
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو.1
اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے.
جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا.
پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں1 کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے.2
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی1 پیدا کیا ہے.
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا)1 بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو.2
اسی نے آسمان سے ایک اندازے1 کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مرده شہر کو زنده کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے.2
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے1 بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو.
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو1 پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی2 طاقت نہ تھی.
اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں.1
اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا 1دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے.
کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا.*
(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے. 1
کیا (اللہ کی اوﻻد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟1
اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی.1
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں1، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔.
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں.1
(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں.
اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں.
(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے.1
پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو.
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا.1
اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات1 قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.2
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)1 دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا.2
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں.1
اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا.1
کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں1؟ ہم نے ہی ان کی زندگانیٴ دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے2 جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے.3
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں1 گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے.
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے.
اور سونے کے بھی1، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.2
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے1 ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے.2
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں.1
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے.1
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا.
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.1
پس اگر ہم تجھے یہاں سے1 لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں.2
یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے1 وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں.2
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں1 بیشک آپ راه راست پر ہیں.2
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ1 کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم1 نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟2
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.1
پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے.1
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی1 اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.2
اور انہوں نے کہا اے جادوگر1! ہمارے لیے اپنے رب سے2 اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے3، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے.4
پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا.
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا1 اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں2، کیا تم دیکھتے نہیں؟
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے1 اور صاف بول بھی نہیں سکتا.2
اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے1 یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے.2
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی1، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے.
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا.
پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی.1
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے.
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو.1
عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا.1
اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے.1
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے1 پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے.
اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وه تمہارا صریح دشمن ہے.
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں1، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو.
میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راه راست (یہی) ہے.
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا1، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے.
یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو.
اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے.1
میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہوگے.1
جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے اور تھے بھی وه (فرماں بردار) مسلمان.
تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ.1
ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا1، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے.2
یہی وه بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو.
یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے.
بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے.
یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے.1
اور ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ﻇالم تھے.
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک1! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے2، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے.3
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق1 سے نفرت رکھنے والے تھے؟
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں.1
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں1) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں.2
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر بالفرض رحمٰن کی اوﻻد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے واﻻ ہوتا.1
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے.1
اب آپ انہیں اسی بحﺚ مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے1، یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑجائے جن کا یہ وعده دیے جاتے ہیں.2
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے1 اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے.
اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے1، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے2 اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے.3
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے1، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو.2
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟
اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا1 کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وه لوگ ہیں جو ایمان نہیں ﻻتے.
پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام1! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا.
حٰم.
قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی.
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات1 میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.2
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے.1
ہمارے پاس سے حکم ہوکر1، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے.2
آپ کے رب کی مہربانی سے1۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ.
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو.
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا.1
بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں.1
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا.1
جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے.
کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں.1
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے.
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے.
ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے.
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے1، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں.
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں1 جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا.
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر1 دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں.2
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو1، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں.2
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو.1
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو.1
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں.1
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا1 پیچھا کیا جائے گا.
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا1، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا.
وه بہت سے باغات1 اور چشمے چھوڑ گئے.
اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے.
اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے.
اسی طرح ہوگیا1 اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا.2
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین1 روئے اور نہ انہیں مہلت ملی.
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی.
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا.
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی.1
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.1
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں.1
کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم1 دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے.
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ.1
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے.1
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا.1
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا1 ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے.2
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے.1
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.1
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے.
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت.
گناه گار کا کھانا ہے.
جو مثل تلچھٹ1 کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے.
مثل تیز گرم پانی کے.1
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ.1
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ.
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا.1
یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے.
بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے.
باغوں اور چشموں میں.
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے.1
یہ اسی طرح ہے1 اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے.2
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے.1
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت1 (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا.
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے1، یہی ہے بڑی کامیابی.
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں.
اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں.1
حٰم
یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے.
آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.
اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وه پھیلاتا ہے یقین رکھنے والی قوم کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں.
اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے1، (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں.2
یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان ﻻئیں گے.1
ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر.1
جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں1، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے.
وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے1، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہے.
ان کے پیچھے دوزخ ہے1، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ2 دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز3 بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے.
یہ (سر تاپا) ہدایت1 ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے.2
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا1 کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں2 چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ.3
اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے1۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے.
آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وه ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں1 رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے.2
جو نیکی کرے گا وه اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے1، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.2
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت1 اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزه (اور نفیس) روزیاں دی تھیں2 اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی.3
اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں1، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحﺚ سے ہی اختلاف برپا کر ڈاﻻ2، یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا.3
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا1، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں.2
(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے.
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں1 اور ہدایت ورحمت ہے2 اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے.
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے1، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں.
اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا.1
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا1 ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراه کردیا2 ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی3 ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پرده ڈال دیا4 ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے.5
کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے1۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے2، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں.
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ.1
آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زنده کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے.
اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی1۔ ہر گروه اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے1، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے.2
پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا1، یہی صریح کامیابی ہے.
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں1؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ.2
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں.1
اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں کھل گئیں اور جس کا وه مذاق اڑا رہے تھے اس نے انہیں گھیر لیا.1
اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو1 بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں.
یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا.1
پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے.
تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی1 ہے اور وہی غالب اور حکمت واﻻ ہے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ