پارہ 26 دیکھ رہے ہیں
پارہ 26 دیکھ رہے ہیں
Al-Ahqaf
.46
The Wind-Curved Sandhills
حٰم.1
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے.
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے1، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں.2
آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے1؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ.2
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں.1
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے.1
اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے.
کیا وه کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا1 ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا ﻻیا ہوں تو تم میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے2، تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ کہہ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے3، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے4، اور وه بخشنے واﻻ مہربان ہے.5
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں1 نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا2۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں.
آپ کہہ دیجئے! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواه اس جیسی کی گواہی بھی دے چکا ہو اور وه ایمان بھی ﻻچکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو1، تو بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو راه نہیں دکھاتا.
اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے.1
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ﻇالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو.
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے.
یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے.
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا1۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے2۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا3 تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے4 کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں.
یہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا.
اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا1، تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد پھر زنده کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں2، وه دونوں جناب باری میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعده حق ہے، وه جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں.3
وه لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعده صادق آگیا1، ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں2، یقیناً یہ نقصان پانے والے .تھے.
اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے1 تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا.2
اور جس دن کافر جہنم کے سرے پر ﻻئے جائیں گے1 (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی2، اس باعﺚ کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعﺚ بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے.3
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا1 اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں.2
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں1؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر ﻻ ڈالیں.
(حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں1 لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو.2
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے1، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے2، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے.3
جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجر ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا1 تھا۔ گنہگاروں کے گروه کو ہم یوں ہی سزا دیتے ہیں.
اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا1 جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی.2
اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباه کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں1 تاکہ وه رجوع کر لیں.2
پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا.1
اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ1، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا2 تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے.
کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے.
اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان ﻻؤ1، تو اللہ تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناه دےگا.2
اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا1، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے2، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں.
کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے.1
وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی1 (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو.2
پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو1، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے2 تھے، یہ ہے پیغام پہنچا3 دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا.4
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا1 اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیئے.2
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور اچھے کام کیے اور اس پر بھی ایمان ﻻئے جو محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ پر اتاری گئی1 ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا (دین) بھی وہی ہے، اللہ نے ان کے گناه دور کر دیئے2 اور ان کے حال کی اصلاح کر دی.3
یہ اس لئے1 کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے اس دین حق کی اتباع کی جو ان کے اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے احوال اسی طرح بتاتا ہے.2
تو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوتو گردنوں پر وار مارو1۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو2، (پھر اختیار ہے) کہ خواه احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ3 لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے4۔ یہی حکم ہے5 اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا6، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے7، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا.8
انہیں راه دکھائے گا اور ان کے حاﻻت کی اصلاح کر دے گا.1
اور انہیں اس جنت میں لے جائے گا جس سے انہیں شناسا کر دیا ہے.1
اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے1 تو وه تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ﺛابت قدم رکھے گا.2
اور جو لوگ کافر ہوئے انہیں ہلاکی ہو اللہ ان کے اعمال غارت کردے گا.
یہ اس لئے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیئے.1
کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر اس کا معائنہ نہیں کیا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا نتیجہ کیا ہوا1؟ اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لئے اسی طرح کی سزائیں ہیں.2
وه اس لئے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لئے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں.1
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وه (دنیا ہی کا) فائده اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں1، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے.
ہم نے کتنی بستیوں کو جو طاقت میں تیری اس بستی سے زیاده تھیں جس سے تجھے نکالا ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، جن کا مددگار کوئی نہ اٹھا.
کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟1
اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں1، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ2 اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے3 اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں4 اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا.5
اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی وﻻپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا1؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وه اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں.
اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے.1
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں1، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟2
سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں1 اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی2، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے.3
اور جو لوگ ایمان ﻻئے وه کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی1؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت2 نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وه آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو3، پس بہت بہتر تھا ان کے لئے.
فرمان کا بجا ﻻنا اور اچھی بات کا کہنا1۔ پھر جب کام مقرر ہو جائے2، تو اللہ کے ساتھ سچے رہیں3 تو ان کے لئے بہتری ہے.4
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو1 اور رشتے ناتے توڑ ڈالو.
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے.1
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں.1
جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد ان کے لئے ہدایت واضح1 ہو چکی یقیناً شیطان نے ان کے لئے (ان کے فعل کو) مزین کر دیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے.2
یہ1 اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی نازل کرده وحی کو برا سمجھا یہ کہا2 کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں3 میں تمہارا کہا مانیں گے، اور اللہ ان کی پوشیده باتیں خوب جانتا ہے.4
پس ان کی کیسی (درگت) ہوگی جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی سرینوں پر ماریں گے.1
یہ اس بنا پر کہ یہ وه راه چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے.
کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو ﻇاہر نہ کرے گا.1
اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا1، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا2، تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں.
یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ﻇاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کر لیں.1
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے لوگوں کو روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ﻇاہر ہو چکی یہ ہرگز ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے1۔ عنقریب ان کے اعمال وه غارت کردے گا.2
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو.1
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے اوروں کو روکا پھر کفر کی حالت میں ہی مرگئے (یقین کر لو) کہ اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا.
پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ جبکہ تم ہی بلند وغالب رہو گے1 اور اللہ تمہارے ساتھ ہے2، ناممکن ہے کہ وه تمہارے اعمال ضائع کر دے.3
واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے1 اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا.2
اگر وه تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وه تمہارے کینے ﻇاہر کر دے گا.1
خبردار! تم وه لوگ ہو کہ اللہ کی راه میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو1، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وه تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے2۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو3 اور اگر تم روگردان ہو جاؤ4 تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے.5
بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے.*
تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے1، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے2 اور تجھے سیدھی راه چلائے.3
اور آپ کو ایک زبردست مدد دے.
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں1، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں2۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے.
تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن1 کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناه دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے.
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں1، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے2، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے.
اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت واﻻ ہے.1
یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے واﻻ اور خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے.
تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام.
جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں1، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے2، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے3 اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے4 تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا.
دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے1۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے2۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو3 یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو4، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے.5
(نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا1۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے.2
اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ ﻻئے تو ہم نے بھی ایسے کافروں کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے.
اور زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔ اور اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے.1
جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے1، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں2 آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے3، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو4، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں.5
آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑوگے یا وه مسلمان ہوجائیں گے1 پس اگر تم اطاعت کرو2 گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا3 اور اگر تم نے منھ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منھ پھیر چکے ہو تو وه تمہیں دردناک عذاب دے گا.4
اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے1 اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا.
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے1۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا2 اور ان پر اطمینان نازل فرمایا3 اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی.4
اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وه حاصل کریں گے1 اور اللہ غالب حکمت واﻻ ہے.
اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعده کیا ہے1 جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تو تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی2 اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے3، تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے4 اور (تاکہ) وه تمہیں سیدھی راه چلائے.5
اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے1 اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
اور اگر تم سے کافر جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ تو کوئی کار ساز پاتے نہ مددگار.1
اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے1، تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا.
وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا1، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے.
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)1، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھ2 یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا3، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی4 لیکن ایسا نہیں کیا گیا5) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے.6
جب کہ1 ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی2 اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا3 اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے.
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر1، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے2، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی.3
وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے1، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ.
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے1، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا2 پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا3 تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے4، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے.5
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو1 اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے.
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو.1
بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا ﺛواب ہے.1
جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (بالکل) بے عقل ہیں.1
اگر یہ لوگ یہاں تک صبر کرتے کہ آپ خود سے نکل کر ان کے پاس آجاتے تو یہی ان کے لئے بہتر ہوتا1، اور اللہ غفور ورحیم ہے.2
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو1 ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ.
اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں1، اگر وه تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں، تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں.
اللہ کے احسان وانعام سے1 اور اللہ دانا اور باحکمت ہے.
اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو1۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے2، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو3 اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.4
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو1، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.2
اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں1، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ2 اور نہ کسی کو برے لقب دو3۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے4، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں.
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں1۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو2 اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے3۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی4، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے.
اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے1 اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے2 ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے3۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے.
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا1۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں.1
کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاه کر رہے ہو1، اللہ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاه ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے.2
اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو.1
یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیده باتیں اللہ خوب جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے.
ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے.1
بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاه کرنے واﻻ آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے.1
کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے۔ پھر یہ واپسی دور (از عقل) ہے.1
زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے.1
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں.1
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے1 اور زینت دی ہے2 اس میں کوئی شگاف نہیں.3
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں.1
تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو.1
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے.1
اور کھجوروں کے بلند وباﻻ درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں.1
بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے پانی سے مرده شہر کو زنده کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے.1
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں1 نے اور ﺛمود نے.
اور عاد نے فرعون نے اور برادران لوط نے.
اور ایکہ1 والوں نے تبع کی قوم2 نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا3 پس میرا وعدہٴ عذاب ان پر صادق آگیا.
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے1؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں.2
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں1 اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں.2
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا.
(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے.1
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا.1
اور صور پھونک دیا جائے گا۔ وعدہٴ عذاب کا دن یہی ہے.
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ.1
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے.
اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا.1
ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو.
جو نیک کام سے روکنے واﻻ حد سے گزر جانے واﻻ اور شک کرنے واﻻ تھا.
جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا پس اسے سخت عذاب میں ڈال دو.1
اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا.1
حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑنے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہٴ عذاب) بھیج چکا تھا.1
میرے ہاں بات بدلتی نہیں1 اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں.2
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟1
اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی.1
یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو.1
جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ واﻻ دل ﻻیا ہو.1
تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
یہ وہاں جو چاہیں انھیں ملے گا (بلکہ) ہمارے پاس اور بھی زیاده ہے.1
اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیاده تھیں وه شہروں میں ڈھونڈھتے ہی1 ره گئے، کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانہ ہے؟
اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل1 سے متوجہ ہو کر کان لگائے2 اور وه حاضر ہو.3
یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں.
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی.1
اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں1 اور نماز کے بعد بھی.2
اور سن رکھیں1 کہ جس دن ایک پکارنے2 واﻻ قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا.3
جس روز اس تند وتیز چیﺦ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے، یہ دن ہوگا نکلنے کا.1
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں1 اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے.2
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے1 (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے.
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں1، تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈرانے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں.2
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر.1
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو.1
پھر چلنے والیاں نرمی سے.1
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں.1
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں.
اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے.
قسم ہے راہوں والے آسمان کی.1
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو.1
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے1 جو پھیر دیا گیا ہو.
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے.
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں.
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے.1
اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو1، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے.
بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے.
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے.
وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے.1
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے.1
اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا.1
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں.
اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو.
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے.1
آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ1 بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو.
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟1
وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں.1
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے.
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں.1
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے1 انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے2۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی.
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت1 میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ.
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے.1
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ