پارہ 27 دیکھ رہے ہیں
پارہ 27 دیکھ رہے ہیں
Adh-Dhariyat
.51
The Winnowing Winds
(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟1
انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناه گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں.1
تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں.1
جو تیرے رب کی طرف سے نشان زده ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے.1
پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے انہیں نکال لیا.1
اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا.1
اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو درد ناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی.1
موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا.
پس اس نےاپنے بل بوتے پر منھ موڑا1 اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے.
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل.1
اسی طرح عادیوں میں1 بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے2 خالی آندھی بھیجی.
وه جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیده ہدی کی طرح (چورا چورا) کردیتی تھی.1
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو.1
لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے (تیز وتند) کڑاکے1 نے ہلاک کر دیا.
پس نہ تو وه کھڑے ہو سکے1 اور نہ بدلہ لے سکے.2
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے.1
آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے1 اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں.2
اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے1 پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں.
اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا1 ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو.2
پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو1، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں.
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھراؤ۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے واﻻ ہوں.1
اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے.
کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں.1
(نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں1۔ تو آپ ان سے منھ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں.
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی.1
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں.1
نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں.1
اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے.
پس جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا1، لہٰذا وه مجھ سے جلدی طلب نہ کریں.2
پس خرابی ہے منکروں کو ان کے اس دن کی جس کا وعده دیئے جاتے ہیں.
قسم ہے طور کی.1
اور لکھی ہوئی کتاب کی.1
جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے.1
اورآباد گھر کی.1
اور اونچی چھت کی.1
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی.1
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے.
اسے کوئی روکنے واﻻ نہیں.1
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا.1
اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے.
اس دن جھٹلانے والوں کو (پوری) خرابی ہے.
جو اپنی بیہوده گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں.1
جس دن وه دھکے دے1 دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے.
یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے.1
(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے1؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو.2
جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں. 1
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں1، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے.
تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے.1
برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے1۔ اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں.
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے1، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے.2
ہم ان کے لیے میوے اورمرغوب گوشت کی ریل پیل کردیں گے.1
(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے1 جس شراب کے سرور میں تو بیہوده گوئی ہوگی نہ گناه.2
اور ان کے اردگرد ان کے نو عمر غلام چل پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وه موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے.1
اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے.1
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے.1
پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا.1
ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے1، بیشک وه محسن اور مہربان ہے.
تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ.1
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں.1
کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں. 1
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں1؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں.2
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ وه ایمان نہیں ﻻتے.1
اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں.1
کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں1؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟2
کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں.1
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں1؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں.2
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں1؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے.
کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں.1
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟1
کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں1؟ تو یقین کرلیں کہ فریب خورده کافر ہی ہیں.2
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے.
اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے.1
تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے.
جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وه مدد کیے جائیں گے.
بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں1۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں.2
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے1 اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر.
اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ1 اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی.2
قسم ہے ستارے کی جب وه گرے.1
کہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے.1
اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں.
وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.1
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے.
جو زور آور ہے1 پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا.2
اور وه بلند آسمان کے کناروں پر تھا.1
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا.1
پس وه دو کمانوں کے بقدر فاصلہ ره گیا بلکہ اس سے بھی کم.1
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی1 جو بھی پہنچائی.
دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا.1
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں.
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا.
سدرةالمنتہیٰ کے پاس.1
اسی کے پاس جنہ الماویٰ ہے.1
جب کہ سدره کو چھپائے لیتی تھی وه چیز جو اس پر چھا رہی تھی.1
نہ تو نگاه بہکی نہ حد سے بڑھی.1
یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں.1
کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا.
اور منات تیسرے پچھلے کو.1
کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟1
یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے.1
دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے.
کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟1
اللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ جہان اور وه جہان.1
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے.1
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں.
حاﻻنکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں وه صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا.
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو.
یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے.
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے.1
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی1۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے2۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے3۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو4، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.
کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منھ موڑ لیا.
اور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا.1
کیا اسے علم غیب ہے کہ وه (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟1
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے.
اور وفادار ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھا.
کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا.
اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی.1
اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی.1
پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا.
اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے.
اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رﻻتا ہے.
اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے.
اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر ماده پیدا کیا ہے.
نطفہ سے جبکہ وه ٹپکایا جاتا ہے.
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوباره پیدا کرنا ہے.
اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایہ دیتا ہے.1
اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے.1
اور یہ کہ اس نے عاد اول کو ہلاک کیا ہے.1
اور ﺛمود کو بھی (جن میں سے) ایک کو بھی باقی نہ رکھا.
اور اس سے پہلے قوم نوح کو، یقیناً وه بڑے ﻇالم اور سرکش تھے.
اور مؤتفکہ (شہر یا الٹی ہوئی بستیوں کو) اسی نے الٹ دیا.1
پھر اس پر چھا دیا جو چھایا.1
پس اے انسان تو اپنے رب کی کس کس نعمت کے بارے میں جھگڑے گا؟1
یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے.
آنے والی گھڑی قریب آ گئی ہے.
اللہ کے سوا اس کا (وقت معین پر کھول) دکھانے واﻻ اور کوئی نہیں.
پس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو.1
اور ہنس رہے ہو؟ روتے نہیں؟
(بلکہ) تم کھیل رہے ہو.
اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی) کی عبادت کرو.1
قیامت قریب آ گئی1 اور چاند پھٹ گیا.2
یہ اگر کوئی معجزه دیکھتے ہیں تو منھ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے.1
انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے.1
یقیناً ان کے پاس وه خبریں آچکی ہیں1 جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے.2
اور کامل عقل کی بات ہے1 لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا.2
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا.1
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وه پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے.1
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے1 اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے.
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا.1
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر.
پس ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور کے مینہ سے کھول دیا.1
اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے.1
اور ہم نے اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا.1
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا.
اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر1 باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ.2
بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی رہیں؟
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے1۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ ہے؟
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں.
ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی.1
جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں.1
پس کیسی رہی میری سزا اور میرا ڈرانا؟
یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ؟
قوم ﺛمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا.
اور کہنے لگے کیا ہمیں میں سے ایک شخص کی ہم فرمانبرداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقیناً غلطی اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہوں گے.1
کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وه جھوٹا اور شیخی خور ہے.1
اب سب جان لیں گے کل کو کہ کون جھوٹا اور شیخی خور تھا؟1
بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے1 پس (اے صالح) توان کا منتظر ره اور صبر کر.2
ہاں انہیں خبر کر دے کہ پانی ان میں تقسیم شده ہے1، ہرایک اپنی باری پر حاضر ہوگا.2
انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی1 جس نے (اونٹنی پر) وار کیا2 اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں.
پس کیونکر ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا.
ہم نے ان پر ایک چیﺦ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس.1
اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے.
قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی.
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی1 سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی.2
اپنے احسان سے1 ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.
یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا1 تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والوں کے بارے میں (شک وشبہ اور) جھگڑا کیا.2
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا1 پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں2، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو.
اور یقینی بات ہے کہ انہیں صبح سویرے ہی ایک جگہ پکڑنے والے مقرره عذاب نے غارت کر دیا.1
پس میرے عذاب اور میرے ڈراوے کا مزه چکھو.
اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند ووعﻆ کے لیے آسان کر دیا ہے1۔ پس کیا کوئی ہے نصحیت پکڑنے واﻻ.
اور فرعونیوں کے پاس بھی ڈرانے والے آئے.1
انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں1 پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا.2
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں1؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟2
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں.1
عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی.1
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے.1
بیشک گناه گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں.
جس دن وه اپنے منھ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اوران سے کہا جائے گا) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو.1
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے.1
اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا.
اور ہم نے تم جیسے بہتیروں کو ہلاک کر دیا ہے1، پس کوئی ہے نصیحت لینے واﻻ.
جوکچھ انہوں نے (اعمال) کیے ہیں سب نامہٴ اعمال میں لکھے ہوئے ہیں.1
(اسی طرح) ہر چھوٹی بڑی بات بھی لکھی ہوئی ہے.1
یقیناً ہمارا ڈر رکھنے والے جنتوں اور نہروں میں ہوں گے.1
راستی اور عزت کی بیٹھک میں1 قدرت والے بادشاه کے پاس.2
رحمٰن نے.
قرآن سکھایا.1
اسی نے انسان کو پیدا کیا.1
اور اسے بولنا سکھایا.1
آفتاب اور ماہتاب (مقرره) حساب سے ہیں.1
اور ستارے اور درخت دونوں سجده کرتے ہیں.1
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی.1
تاکہ تم تولنے میں تجاوز نہ کرو.1
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو.
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی.
جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں.1
اور بھس واﻻ اناج ہے1۔ اور خوشبودار پھول ہیں.
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی.1
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
وه رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا1
تو (اے جنو اورانسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اس نے دو دریا جاری کر دیے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں.
ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے.1
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں.1
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں وه جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں.1
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں.
صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی.
پھرتم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں1۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے.2
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے.1
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟
اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو1! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے.2
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا1 پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے.2
پھر اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑه.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
گناه گار صرف حلیہ ہی سے پہچان لیے جائیں گے1 اور ان کی پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے.2
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
یہ ہے وه جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے.
اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میوؤں کی دو قسمیں ہوگی.1
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے1، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے.2
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاه والی حوریں ہیں1 جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا.2
پس اپنے پالنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وه حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں.1
پس تم اپنے پرورش کرنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں.1
بتاؤ اب اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں.1
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے.1
کیا اب بھی رب کی کسی نعمت کی تکذیب تم کرو گے؟
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں.1
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں.1
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل.
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟
سبز مسندوں اور عمده فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے.1
پس (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟1
تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے1 جو عزت وجلال واﻻ ہے.
جب قیامت قائم ہو جائے گی.1
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں.
وه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی.1
جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی.
اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.1
پھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے.
اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے.1
پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے.1
اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا.1
اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں.1
وه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں.
نعمتوں والی جنتوں میں ہیں.
(بہت بڑا) گروه تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا.
اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے.1
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر.
ایک دوسرے کےسامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے.1
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی1) رہیں گے آمدورفت کریں گے.
آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو.
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے.1
اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں.
اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں.
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں.
جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں.1
یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا.
نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات.
صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی.1
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ