پارہ 28 دیکھ رہے ہیں
پارہ 28 دیکھ رہے ہیں
Al-Mujadila
.58
The Pleading Woman
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا1، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے واﻻ ہے.
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے1، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے.2
جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں1 تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے2 ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے.
ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے.
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں1 گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے2، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت واﻻ عذاب ہے.
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کیے ہوئے عمل سے آگاه کرے گا، جسے اللہ نے شمار رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے1، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے.2
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وه ہوتا ہے اور نہ اس سے کم کی اور نہ زیاده کی مگر وه ساتھ ہی ہوتا ہے1 جہاں بھی وه ہوں2، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاه کرے گا3 بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے.
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں1 اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں2، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا3 اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا4، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے5، سو وه برا ٹھکانا ہے.
اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں1، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو2 اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے.
(بری) سرگوشیاں، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمان داروں کو رنج پہنچے1۔ گو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وه انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں.2
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو1 اللہ تمہیں کشادگی دے گا2، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ3 تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا4، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے.
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو1 یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے2، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا1 تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو2۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے.
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے1، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں2 باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں.3
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں.1
ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے1 اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں2 ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.
ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے.
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے1 اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں2، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں.
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے1، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے2 یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے.3
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں1 وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں.2
اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے1 کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے.2
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے1 گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں2۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے3 اور جن کی تائید اپنی روح سے کی4 ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں5 یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں،آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے .6
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وه غالب باحکمت ہے.
وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا1، تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وه نکلیں گے اور وه خود (بھی) سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قلعے انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے2 پس ان پر اللہ (کا عذاب) ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا3 اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا4 وه اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے5 اور مسلمانوں کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے6) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو.7
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا1، اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی.
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی سخت عذاب کرنے واﻻ ہے.
تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے.1
اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے1، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے.
(فیء کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وه اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں.1
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے1 اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے2 بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی 3سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے.4
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال1، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.
کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی جائے گی تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے1، لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں.2
اگر وه جلاوطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد (بھی) نہ کریں1 گے اور اگر (بالفرض) مدد پر آبھی گئے2 تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں3 گے پھر مدد نہ کیے جائیں گے.4
(مسلمانو! یقین مانو) کہ تمہاری ہیبت ان کے دلوں1 میں بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیاده ہے، یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں.2
یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں1، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے2 گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں3۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں.4
ان لوگوں کی طرح جو ان سے کچھ ہی پہلے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا1 اور جن کے لیے المناک عذاب (تیار) ہے.2
شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب وه کفر کر چکا تو کہنے لگا میں تو تجھ سے بری ہوں1، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں.2
پس دونوں کا انجام یہ ہوا کہ آتش (دوزخ) میں ہمیشہ کے لیے گئے اور ﻇالموں کی یہی سزا ہے.1
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو1 اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے2۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے.3
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا1، اور ایسے ہی لوگ نافرمان (فاسق) ہوتے ہیں.
اہل نار اور اہل جنت (باہم) برابر نہیں1۔ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں (اور جو اہل نار ہیں وه ناکام ہیں).2
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے1 تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا2 ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں.3
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے1 کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ.
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں.
وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ1، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں2، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے3، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.4
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ1 تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے2 ہو اور وه اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں، پیغمبر کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو3، اگر تم میری راه میں جہاد کے لیے اور میری رضا مندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو4)، تم ان کے پاس محبت کا پیغام پوشیده پوشیده بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا اور وه بھی جو تم نے ﻇاہر کیا، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وه یقیناً راه راست سے بہک جائے گا.5
اگر وه تم پر کہیں قابو پالیں تو وه تمہارے (کھلے) دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور (دل سے) چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ.1
تمہاری قرابتیں، رشتہداریاں، اور اوﻻد تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی1، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا2 اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے.
(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے1، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں2۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی3 لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی4 کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے5 اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے.
اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال1 اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے.
یقیناً تمہارے لیے ان میں1 اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو2، اور اگر کوئی روگردانی کرے3 تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے.
کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے1۔ اللہ کو سب قدرتیں ہیں اور اللہ (بڑا) غفور رحیم ہے.
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی1 اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا2 ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا3، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.4
اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں شہر سے نکال دیئے اور شہر سے نکالنے والوں کی مدد کی جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں1 وه (قطعاً) ﻇالم ہیں.2
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو1۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں2 تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں3، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو4، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں5 اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو6 اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو7، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو8 وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے9، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے.
اور اگر تمہاری کوئی بیوی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور کافروں کے پاس چلی جائے پھر تمہیں اس کے بدلے کا وقت مل جائے1 تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں ان کے اخراجات کے برابر ادا کر دو، اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو.
اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں1، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے واﻻ ہے.
اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے1 جو آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ مرده اہل قبر سے کافر ناامید ہیں.2
زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.
اے ایمان والو1! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں.
تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے.1
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راه میں صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وه سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں.1
اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں1 پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا2، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا.
اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں1 اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے2۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے.3
اس شخص سے زیاده ﻇالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ (افترا) باندھے1 حاﻻنکہ وه اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے2 اور اللہ ایسے ﻇالموں کو ہدایت نہیں کرتا.
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں1 اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے2 گو کافر برا مانیں.3
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے1 اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں.2
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں1 جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو.
اللہ تعالیٰ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے.
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے1، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو.2
اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ1۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے2؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا3 تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے.4
(ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے.
وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں1 میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے.
اور دوسروں کے لیے بھی انہیں میں سے جو اب تک ان سے نہیں1 ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے.
یہ اللہ کا فضل ہے1 جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے.
جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں ﻻدے ہو1۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے) ﻇالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا.
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا تو تم موت کی تمنا کرو1 اگر تم سچے ہو.2
یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے آگے اپنے ہاتھوں بھیج رکھے ہیں1 اور اللہ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے.2
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا.
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو1۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو.
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو1 اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو.
اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں1۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے2 وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے3۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے.4
تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں1، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں2۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں.3
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے1 پس اللہ کی راه سے رک گئے2 بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں.
یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے1 پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے.
جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں1، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں2، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں3، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں4۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں.
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں1 اور آپ دیکھیں گے کہ وه تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں.2
ان کے حق میں آپ کا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہے1۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہ بخشے گا2۔ بیشک اللہ تعالیٰ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا.
یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں1 اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں2 لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں.3
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا1۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے2 لیکن یہ منافق جانتے نہیں.3
اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں1۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں.
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں1 دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں.
اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے.
(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں1 اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے2، اور وه ہر چیز پر قادر ہے.
اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے.1
اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا1، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں2 اور بہت اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے.3
وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے.1
کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا1 اور جن کے لیے دردناک عذاب ہے.2
یہ اس لیے1 کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دﻻئل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا2؟ پس انکار کر دیا3 اور منھ پھیر4 لیا اور اللہ نے بھی بےنیازی کی5، اور اللہ تو ہے ہی بہت بےنیاز6 سب خوبیوں واﻻ.7
ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے1۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے2 پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے.3
سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر1 اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان ﻻؤ2 اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے.
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن1 جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا2 اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻکر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی (سب) جہنمی ہیں (جو) جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وه بہت برا ٹھکانا ہے.
کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی1، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے2 اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے.
(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے.1
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہئے.1
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں1 پس ان سے ہوشیار رہنا2 اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.3
تمہارے مال اور اوﻻد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں1۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے.2
پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ1 اور اللہ کی راه میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے2 اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے.
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راه میں خرچ کرو گے1) تو وه اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناه بھی معاف فرما دے گا2۔ اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے.3
وه پوشیده اور ﻇاہر کا جاننے واﻻ ہے زبردست حکمت واﻻ (ہے).
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو1 تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو2 اور عدت کا حساب رکھو3، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو4 اور نہ وه (خود) نکلیں5 ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں6، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ﻇلم کیا7، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے.8
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو1 اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو2 اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو3۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے.4
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے.2
تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو1 اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے2 اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا.
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا.
تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو1 اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ2 اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو3 پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو4 اور باہم مناسب طور پر مشوره کر لیا کرو 5اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی.6
کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے1 اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو2 اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے3، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا.4
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی1 تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب.2
پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزه چکھ لیا اور انجام کار ان کا خساره ہی ہوا.
ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے.
(یعنی) رسول1 جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں وه تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے2، اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے3 اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے.
اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی1۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے2 تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے.3
اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں1؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے.
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے1 اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے.
اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی1، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی2 اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے3، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی4۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے.5
(اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے1) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں2 اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوه فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں.3
اگر وه (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا1، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں اللہ کے حضور جھکنے والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا ﻻنے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوه اور کنواریاں.2
اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ1 جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں.
اے کافرو! آج تم عذر وبہانہ مت کرو۔ تمہیں صرف تمہارے کرتوت کا بدلہ دیا جارہا ہے.
اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو1۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما2 اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے.
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو1 اور ان پر سختی کرو2 ان کا ٹھکانا جہنم ہے3 اور وه بہت بری جگہ ہے.
اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح کی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی1 یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو (شائستہ اور) نیک بندوں کے گھر میں تھیں، پھر ان کی انہوں نے خیانت کی2 پس وه دونوں (نیک بندے) ان سے اللہ کے (کسی عذاب کو) نہ روک سکے3 اور حکم دے دیا گیا (اے عورتوں) دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی چلی جاؤ.4
اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی1 جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ﻇالم لوگوں سے خلاصی دے.
اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی1 جس نے اپنے ناموس کی حفاﻇت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں2 اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں سے تھی.3
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ