پارہ 29 دیکھ رہے ہیں
پارہ 29 دیکھ رہے ہیں
Al-Mulk
.67
The Sovereignty
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے1 اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے.
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے1، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے.
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا1، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے.2
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی.1
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ1 بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا.
اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وه کیا ہی بری جگہ ہے.
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی.1
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے1، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟2
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو.1
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے.1
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا1۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں).2
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے.1
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو1 وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے.2
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا1؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو.2
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا1 تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو2 اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو3) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے.1
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے1؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا.2
اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے1، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے2۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.3
سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے1 کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں.2
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا1؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں.2
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے1 یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟2
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا1 اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے2 تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو.3
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے.1
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)1
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے1، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں.2
جب یہ لوگ اس1 وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے2 اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے.3
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟1
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے1 اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے2۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟3
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟1
ن1، قسم ہے قلم کی اور2 اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.3
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.1
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.*
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.1
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.1
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.1
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.1
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.1
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.1
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.1
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا1 جس طرح ہم نے باغ والوں کو2 آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.3
اور انشاءاللہ نہ کہا.
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے.1
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی.1
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں.
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو.
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے.1
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے.*
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے.1
جب انہوں نے باغ دیکھا1 تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ2 بھول گئے.
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی.1
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟1
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے.1
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے.
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے.
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب1 اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں.
یوں ہی آفت آتی ہے1 اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی.2
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں.
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے.1
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب1 ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو.1
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟1
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں.1
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے.1
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی1، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.2
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے1 ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.2
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.1
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.1
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.1
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر1) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب2 کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.3
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.1
اسے اس کے رب نے پھر نوازا1 اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.2
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں1، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.2
در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے.1
ﺛابت ہونے والی.1
ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟1
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟1
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا1
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.1
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.1
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا1 پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.2
کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی1، انہوں نے بھی خطائیں کیں.
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا.1
جب پانی میں طغیانی آگئی1 تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا.2
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں1، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں.2
پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی.1
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں1 گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی.
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا.1
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے1، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.2
اس دن تم سب سامنے پیش کیے1 جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا.
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا1 کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.2
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے.1
پس وه ایک دل پسند زندگی میں ہوگا.
بلند وباﻻ جنت میں.1
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے.1
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے.1
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.1
اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے.1
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی.1
میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا.
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا.1
(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو.
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو.1
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو.1
بیشک یہ اللہ عظمت والے پرایمان نہ رکھتا تھا.1
اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا.1
پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے.
اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے.1
جسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا.1
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو.
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے.1
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے.1
یہ کسی شاعر کا قول نہیں1 (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے.
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے1، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو.2
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے.1
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا.1
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے.1
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے.1
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا.1
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے.1
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں.
بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے.1
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے.1
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر.1
ایک سوال کرنے والے1 نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے.
کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے واﻻ نہیں.
اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں واﻻ ہے.1
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں1 ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے.2
پس تو اچھی طرح صبر کر.
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں. 1
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں.1
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا.*
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے.1
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا.
(حاﻻنکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے1، گناهگار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو.
اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو.
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا.
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دﻻ دے.1
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے.1
جو منھ اور سر کی کھال کھینچ ﻻنے والی ہے.1
وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے.
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے.1
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے.1
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے.
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے.
مگر وه نمازی.
جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں.1
اور جن کے مالوں میں مقرره حصہ ہے.1
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی.1
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں.1
اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں.1
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں.1
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں.
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں.1
اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے.
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں.1
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں.1
اور جو اپنی نمازوں کی حفاﻇت کرتے ہیں.
یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے.
پس کافروں کو کیاہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں.
دائیں اور بائیں سے گروه کے گروه..1
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا1۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں.2
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں1 کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں.
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں1 اور ہم عاجز نہیں ہیں.2
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے1 یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے.
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں.1
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی1، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی2، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا.3
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف1 بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.2
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.1
کہ تم اللہ کی عبادت کرو1 اور اسی سے ڈرو2 اور میرا کہا مانو.3
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا1۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا2۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.3
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.1
مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.1
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا1 انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں2 اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا3 اور اڑ گئے4 اور بڑا تکبر کیا.5
پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.
اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.1
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ1 (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.2
وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.1
اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا.1
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے.1
حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے1 پیدا کیا ہے.
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں.1
اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے1 اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے.2
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے1 (اور پیدا کیا ہے).
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا.1
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے.1
تاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو.1
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی1 اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے.2
اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.1
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا).1
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا.1
یہ لوگ بہ سبب1 اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا.
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.1
اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے.
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے1 اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا.2
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت1 نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے.2
جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے1۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے2 (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب3 کا شریک نہ بنائیں گے.
اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا.1
اور یہ کہ ہم میں سے بیوقوف [یعنی ابلیس] اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا.1
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں.1
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے1 جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے.2
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا).1
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا.1
اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے1۔ اب جو بھی کان لگاتا ہے وه ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے.2
ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا اراده کیا گیا ہے یا ان کے رب کا اراده ان کے ساتھ بھلائی کا ہے.1
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں.1
اور ہم نے سمجھ لیا1 کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں.
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا.1
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں1 پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا.
اور جو ﻇالم ہیں وه جہنم کا ایندھن بن گئے.1
اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راه راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے.
تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں1، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا.2
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.1
اور جب اللہ کا بنده اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وه بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں.1
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا.1
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں.1
کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا1 اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناه بھی پا نہیں سکتا.
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے1، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے.
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے1 پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے.2
کہہ دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جاتا ہے وه قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے دور کی مدت مقرر کرے گا.1
وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا.
سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے1 لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے.2
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے1 اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے2 اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے.3
اے کپڑے میں لپٹنے والے.1
رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم.
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے.
یا اس پر بڑھا دے1 اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر.2
یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے.1
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے1 اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے.2
یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے.1
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا.1
مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے.
اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره.
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے.
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے.
اور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے.1
جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے.1
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ1 رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا.
تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا.1
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا.1
جس دن آسمان پھٹ جائے گا1 اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے.2
بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے.
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے1 اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے2، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے3 پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو4، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے5 اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے6، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو7 اور نماز کی پابندی رکھو8 اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو9۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے10 اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ. مہربان ہے
اے کپڑا اوڑھنے والے.1
کھڑا ہوجا اور آگاه کردے.1
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر.
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر.1
ناپاکی کو چھوڑ دے.1
اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر.1
اور اپنے رب کی راه میں صبر کر.
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی.
تو وه دن بڑا سخت دن ہوگا.
جو کافروں پر آسان نہ ہوگا.1
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے.1
اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے.
اور حاضر باش فرزند بھی.1
اور میں نے اسے بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے.1
پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیاده دوں.1
نہیں نہیں، وه ہماری آیتوں کا مخالف ہے.1
عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا.1
اس نے غور کرکے تجویز کی.1
اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟
وه پھر غارت ہو کس طرح اندازه کیا.1
اس نے پھر دیکھا.1
پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا.1
پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا.1
اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے.1
سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے.
میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا.
اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟1
نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے.1
کھال کو جھلسا دیتی ہے.
اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں.1
ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے1 تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں2، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے3 اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے4؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے5۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا6، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے.7
سچ کہتا ہوں1 قسم ہے چاند کی.2
اور رات کی جب وه پیچھے ہٹے.
اور صبح کی جب کہ روشن ہو جائے.
کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے.1
بنی آدم کو ڈرانے والی.
(یعنی) اسے1 جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے.2
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے.1
مگر دائیں ہاتھ والے.1
کہ وه بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) گناه گاروں سے.
سوال کرتے ہوں گے.1
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ.
وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے.
نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے.1
اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے.1
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ