پارہ 30 دیکھ رہے ہیں
پارہ 30 دیکھ رہے ہیں
An-Naba
.78
The Tidings
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں.1
اس بڑی خبر کے متعلق.
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں.1
یقیناً یہ عنقریب جان لیں گے.*
پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا.1
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟1
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟)1
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا.1
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا.1
اور رات کو ہم نے پرده بنایا.1
اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا.1
اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے.1
اور ایک روشن چراغ (سورج) بنایا.1
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا.1
تاکہ اس سے اناج اور سبزه اگائیں.1
اور گھنے باغ (بھی اگائیں).1
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے.1
جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے.1
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے.1
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے.1
بیشک دوزخ گھات میں ہے.1
سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے.
اس میں وه مدتوں تک پڑے رہیں گے.1
نہ کبھی اس میں خنکی کا مزه چکھیں گے، نہ پانی کا.
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیپ کے.1
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا.1
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی.1
اور بے باکی سے ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے.
ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے.1
اب تم (اپنے کیے کا) مزه چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے.1
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے.1
باغات ہیں اور انگور ہیں.1
اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں.1
اور چھلکتے ہوئے جام ہیں.1
وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے.1
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا)یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا.1
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے واﻻ ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا.1
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے1 تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.2
یہ دن حق ہے1 اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے.2
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے1۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا2 اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا.3
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!1
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!1
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!1
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!1
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!1
جس دن کانپنے والی کانپے گی.1
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی.1
(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے.1
جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی.1
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟1
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟1
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے1
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے.
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے.1
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا.1
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.1
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.1
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.1
پس اسے بڑی نشانی دکھائی.1
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.1
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.1
پھر سب کو جمع کرکے پکارا.1
تم سب کا رب میں ہی ہوں.
تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.1
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.1
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا1؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.1
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.1
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.1
اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.1
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).1
اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).1
اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.1
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے1 سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.2
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.1
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.1
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟1
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.1
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.1
وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا.
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا.1
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا.1
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی.
جو بے پرواہی کرتا ہے.1
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے.1
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.1
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے.1
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے.1
تو اس سے بےرخی برتتا ہے.1
یہ ٹھیک نہیں1 قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے.
جو چاہے اس سے نصیحت لے.1
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے).1
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے.1
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے.1
جو بزرگ اور پاکباز ہیں.1
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے.1
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا.
اسے) ایک نطفہ1 سے پیدا کیا،پھراس کا اندازہ مقررکیا .2
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا.1
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا.
پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا.1
ہرگز نہیں*۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی.
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے.1
کہ ہم نے خوب پانی برسایا.
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح.
پھر اس میں سے اناج اگائے.
اور انگور اور ترکاری.
اور زیتون اور کھجور.
اور گنجان باغات.
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا).1
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے.
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.1
اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا.
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے.
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا.
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی.1
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے.
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے.1
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے.
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی.1
وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے.1
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا.
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی.1
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے.1
اور جب دس ماه کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں.1
اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے.1
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے.1
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی.1
اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا.
کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟1
اور جب نامہٴ اعمال کھول دیئے جائیں گے.1
اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی.1
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی.
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی.
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہوگا.1
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے.
چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی.1
اور رات کی جب جانے لگے.1
اور صبح کی جب چمکنے لگے.1
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے.1
جو قوت واﻻ ہے1، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے.
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے اورامین1 ہے.
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے.1
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے.1
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں.1
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں.1
پھر تم کہاں جا رہے ہو.1
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے.
(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہے.
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے.1
جب آسمان پھٹ جائے گا.1
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے.
اور جب سمندر بہہ نکلیں گے.1
اور جب قبریں (شق کر کے) اکھاڑ دی جائیں گی.1
(اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا.1
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا.1
جس (رب نے) تجھے پیدا کیا،1 پھر ٹھیک ٹھاک کیا2، پھر (درست اور) برابر بنایا.3
جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا.1
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو.1
یقیناً تم پر نگہبان عزت والے.
لکھنے والے مقرر ہیں.
جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں.1
یقیناً نیک لوگ (جنت کے عیش وآرام اور) نعمتوں میں ہوں گے.
اور یقیناً بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے.1
بدلے والے دن اس میں جائیں گے.1
وه اس سے کبھی غائب نہ ہونے پائیں گے.1
تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا ہے.
میں پھر (کہتا ہوں کہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا (اور سزا) کا دن کیا ہے.1
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے.1
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی.
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں.
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں.1
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں.
اس عظیم دن کے لئے.
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.1
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے.1
تجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے.
جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے.
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے.
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں.1
یوں نہیں1 بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے.2
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے.1
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے.
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے.
لرگزنہیں،بےشک نیکوکاروں کے اعمال نامے علییں میں ہیں .1
اورتجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟
(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں.
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے.
مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گا.1
یہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گے.1
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے.1
اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی.1
(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے.
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے.1
اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھے.1
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے.1
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں.1
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے.1
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے.1
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا.1
جب آسمان پھٹ جائے گا.1
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا1 اور اسی کے ﻻئق وه ہے.2
اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی.1
اور اس میں جو ہے اسے وه اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی.1
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی1 اور اسی کے ﻻئق وه ہے.
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے.1
تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا.
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا.1
اور وه اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا.1
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا.
تو وه موت کو بلانے لگے گا.1
اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہوگا.
یہ شخص اپنے متعلقین میں (دنیا میں) خوش تھا.1
اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا.1
کیوں نہیں1، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا.2
مجھے شفق کی قسم1! اور رات کی!
اور اس کی جمع کرده1 چیزوں کی قسم.
اور چاند کی جب کہ وه کامل ہو جاتا ہے.1
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے.1
انہیں کیا ہو گیا کہ ایمان نہیں ﻻتے.
اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجده نہیں کرتے.1
بلکہ جنہوں نے کفر کیا وه جھٹلا رہے ہیں.1
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں.1
انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو.
ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے.
برجوں والے آسمان کی قسم!1
وعده کیے ہوئے دن کی قسم!1
حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم!1
(کہ) خندقوں والے ہلاک کیے گئے.1
وه ایک آگ تھی ایندھن والی.1
جب کہ وه لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے.1
اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے.
یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے.1
جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو دیکھ رہا ہے.
بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے.
بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے.
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے.1
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوباره پیدا کرے گا.1
وه بڑا بخشش کرنے واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے.
عرش کا مالک عظمت واﻻ ہے.1
جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے.1
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟*
(یعنی) فرعون اور ثمود کی. 1
(کچھ نہیں) بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں.
اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے.1
بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان واﻻ.
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا).1
قسم ہے آسمان کی اور اندھیرے میں روشن ہونے والے کی.
تجھے معلوم بھی ہے کہ وه رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟
وه روشن ستاره ہے.1
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو.1
انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وه کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے.
وه ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے.1
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے.1
بیشک وه اسے پھیر ﻻنے پر یقیناً قدرت رکھنے واﻻ ہے.1
جس دن پوشیده بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی.1
تو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مدددگار.1
بارش والے آسمان کی قسم!1
اور پھٹنے والی زمین کی قسم!1
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے.1
یہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں.1
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں.1
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں.1
تو کافروں کو مہلت دے1 انہیں تھوڑے دنوں چھوڑ دے.
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر.1
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا.1
اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی.1
اور جس نے تازه گھاس پیدا کی.1
پھر اس نے اس کو (سکھا کر) سیاه کوڑا کر دیا.1
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا.1
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ظاہر اور پوشیده کو جانتا ہے.1
ہم آپ کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے.1
تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے.1
ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا.1
(ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا.1
جو بڑی آگ میں جائے گا.
جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جئےگا1، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا).
بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا.1
اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا.
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو.
اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے.1
یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں.
(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں.
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے.1
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے.1
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے.1
وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے.
اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا.1
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ