صفحہ 244 دیکھ رہے ہیں
صفحہ 244 دیکھ رہے ہیں
Yusuf
.12
Joseph
پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ1 رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے2 والو! تم لوگ تو چور ہو.3
انہوں نے ان کی طرف منھ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے؟
جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئےاسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں.1
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں.1
انہوں نے کہا اچھا چور کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ہو؟1
جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے1۔ ہم تو ایسے ﻇالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں.2
پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی شروع کی، اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان (زنبیل) سے نکالا1۔ ہم نے یوسف کے لئے اسی طرح یہ تدبیر کی2۔ اس بادشاه کے قانون کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے سکتا تھا3 مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں4، ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے واﻻ دوسرا ذی علم موجود ہے.5
انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس کابھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے1۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ﻇاہر نہ کیا۔ کہا کہ تم بدتر جگہ میں ہو2، اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے.
انہوں نے کہا کہ اے عزیز مصر1! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑے نیک نفس ہیں.2
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ