صفحہ 292 دیکھ رہے ہیں
صفحہ 292 دیکھ رہے ہیں
Al-Isra
.17
The Night Journey
اللہ جس کی رہنمائی کرے تو وه ہدایت یافتہ ہے اور جسے وه راه سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے1، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منھ حشر کریں گے2، دراں حالیکہ وه اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے3، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب کبھی وه بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے.
یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں1 گے؟
کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے1، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے2، لیکن ﻇالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں.
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے1 کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل.
ہم نے موسیٰ کو نو معجزے1 بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وه ان کے پاس پہنچے تو فرعون بوﻻ کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کردیا گیا ہے.
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے.
آخر فرعون نے پختہ اراده کر لیا کہ انہیں زمین سے ہی اکھیڑ دے تو ہم نے خود اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو غرق کر دیا.
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین1 پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ