سورہ 12 دیکھ رہے ہیں
سورہ 12 دیکھ رہے ہیں
Yusuf
.12
Joseph
الرٰ، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔.*
یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو.1
ہم آپ کے سامنے بہترین بیان1 پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے.2
جب کہ یوسف 1نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جان میں نے گیاره ستاروں کو اور سورج چاند کو2 دیکھا کہ وه سب مجھے سجده کر رہے ہیں.
یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وه تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں1، شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے.2
اور اسی طرح 1تجھے تیرا پروردگار برگزیده کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا 2اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی3، جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم واسحاق کو بھی بھرپور اپنی نعمت دی، یقیناً تیرا رب بہت بڑے علم واﻻ اور زبردست حکمت واﻻ ہے.
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں1 ہیں.
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی1 بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت 2ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں.3
یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا.1
ان میں سے ایک نے کہا یوسف کو قتل تو نہ کرو بلکہ اسے کسی اندھے کنوئیں (کی تہ) میں ڈال آؤ کہ1 اسے کوئی (آتا جاتا) قافلہ اٹھا لے جائے اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یوں کرو.2
انہوں نے کہا ابا! آخر آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ہم تو اس کے خیر خواه ہیں.1
کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب کھائے پئے اور کھیلے1، اس کی حفاﻇت کے ہم ذمہ دار ہیں.
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے.
انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی (زور آور) جماعت کی موجودگی میں بھی اگر اسے بھیڑیا کھا جائے تو ہم بالکل نکمے ہی1 ہوئے.
پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آرہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وه جانتے ہی نہ ہوں.1
اور عشا کے وقت (وه سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے.
اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑا پس اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات نہیں مانیں گے، گو ہم بالکل سچے ہی ہوں.1
اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے1، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے.2
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے1، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا 2اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے 3تھے.
اور انہوں نے1 اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے.2
مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی 1سے کہا کہ اسے بہت عزت واحترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائده پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کا قدم جما 2دیا کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں.
اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا1، ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.
اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، یوسف کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وه اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاؤ یوسف نے کہا اللہ کی پناه! وه میرا رب ہے، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا.1
اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس1 کا قصد کرتے اگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے2، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں3۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا.
دونوں دروازے کی طرف دوڑے1 اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈاﻻ اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا، تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا اراده کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی دردناک سزا دی جائے.2
یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی1، اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی 2دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے.
اور اگر اس کا کرتا پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیاہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے.
خاوند نے جو دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیٹھ کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے، بیشک تمہاری چال بازی بہت بڑی ہے.1
یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو 1اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے.2
اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وه صریح گمراہی میں ہے.1
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا1 اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی2 اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ3، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے4، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے.5
اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں1، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا.2
یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا.1
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیے، یقیناً وه سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے.
پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں.1
اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتایئے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں.1
یوسف ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا۔ یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے1، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں.2
میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں، یعنی ابراہیم واسحاق اور یعقوب کے دین کا1، ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں2، ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں.
اے میرے قید خانے کے ساتھیو1! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں2؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی1، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست 2ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.3
اے میرے قیدخانے کے رفیقو1! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاه کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا2، لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کھائیں گے3، تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کردیا گیا.4
اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاه سے میرا ذکر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاه سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قیدخانے میں ہی کاٹے.1
بادشاه نے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات ﻻغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہیں ہری ہری اور دوسری سات بالکل خشک۔ اے درباریو! میرے اس خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو.
انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اڑتے اڑاتے پریشان خواب ہیں اور ایسے شوریده پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہم نہیں.1
ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد یاد آگیا اور کہنے لگامیں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے.1
اے یوسف! اے بہت بڑے سچے یوسف! آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلایئے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالکل سبز خوشے ہیں اور سات ہی دوسرے بالکل خشک ہیں، تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں کہ وه سب جان لیں.
یوسف نے جواب دیا کہ تم سات سال تک پے درپے لگاتار حسب عادت غلہ بویا کرنا، اور فصل کاٹ کر اسے بالیوں سمیت ہی رہنے دینا سوائے اپنے کھانے کی تھوڑی سی مقدار کے.
اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط آئیں گے وه اس غلے کو کھا جائیں گے، جو تم نے ان کے لئے ذخیره رکھ چھوڑا تھا1، سوائے اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھتے ہو.2
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے.1
اور بادشاه نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ1، جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاه کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے2، تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے واﻻ میرا پروردگار ہی ہے.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ