سورہ 23 دیکھ رہے ہیں
سورہ 23 دیکھ رہے ہیں
Al-Mu'minun
.23
The Believers
یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی.1
جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں.1
جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں.1
جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں.1
جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں.
بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں.
جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں.1
جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاﻇت کرنے والے ہیں.1
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں.1
یہی وارث ہیں.
جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وه ہمیشہ رہیں گے.1
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا.1
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا.1
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا1، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا2۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے.3
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو.
پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے.
ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں1 اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں.2
ہم ایک صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں1، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں2، اور ہم اس کے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں.3
اسی پانی کے ذریعہ سے ہم تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کردیتے ہیں، کہ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں ان ہی میں سے تم کھاتے بھی ہو.1
اور وه درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے.1
تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض بعض کو تم کھاتے بھی ہو.
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو.1
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے.
اس کی قوم کے کافر سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے1۔ اگر اللہ ہی کو منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتارتا2، ہم نے تو اسے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں.3
یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو.1
نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.1
تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔ جب ہمارا حکم آجائے1 اور تنور ابل پڑے2 تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے3 اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے4۔ خبردار جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وه تو سب ڈبوئے جائیں گے.5
جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی.
اور کہنا کہ اے میرے رب1! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں2.
یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں1 اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں.2
ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی.1
پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا1 کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں2، تم کیوں نہیں ڈرتے؟
اور سرداران قوم1 نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا2، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے.3
اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو.1
کیا یہ تمہیں اس بات کا وعده کرتا ہے کہ جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی ره جاؤ گے تو تم پھر زنده کئے جاؤ گے.
نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وه جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو.1
(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے.
یہ تو بس ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھ لیا ہے1، ہم تو اس پر ایمان ﻻنے والے نہیں ہیں.
نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.1
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے.1
بالﺂخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیﺦ1 نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈاﻻ2، پس ﻇالموں کے لئے دوری ہو.
ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں.1
نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقرره سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی.1
پھر ہم نے لگاتار رسول1 بھیجے، جب جب اس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا2 اور انہیں افسانہ3 بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے.
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل1 کے ساتھ بھیجا.
فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ.1
کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان ﻻئیں؟ حاﻻنکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت1 ہے.
پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وه بھی ہلاک شده لوگوں میں مل گئے.
ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں.1
ہم نے ابن مریم اور اس کی والده کو ایک نشانی بنایا1 اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی2 والی جگہ میں پناه دی.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ