سورہ 29 دیکھ رہے ہیں
سورہ 29 دیکھ رہے ہیں
Al-'Ankabut
.29
The Spider
الم.
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟.1
ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا1۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں.
کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے1، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں.2
جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے1، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے.2
اور ہر ایک کوشش کرنے واﻻ اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے.1
اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے.1
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے1 ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے2، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا.
اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں میں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا.1
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں1، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے2 تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں3 کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟4
جو لوگ ایمان ﻻئے اللہ انہیں بھی ﻇاہر کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ﻇاہر کرکے رہے گا.1
کافروں نے ایماں والوں سے کہا کہ تم ہماری راه کی تابعداری کرو تمہارے گناه ہم اٹھا لیں گے1، حاﻻنکہ وه ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں.2
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی1۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی.
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے1، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم.
پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا.
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے.
تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو1۔ سنو! جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وه تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری2 کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے.3
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے1، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے.2
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعاده کرے گا1، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے.2
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی1 کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے.1
تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار.
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں1 اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے.
ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو1۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا2، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں.
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے1، تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے2 اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا.
پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان ﻻئے1 اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے واﻻ ہوں2۔ وه بڑا ہی غالب اور حکیم ہے.
اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اوﻻد میں ہی کر دی1 اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ﺛواب دیا 2اور آخرت میں تو وه صالح لوگوں میں سے ہیں.3
اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے1 ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا.
کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو1 اور راستے بند کرتے ہو2 اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو3؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس4 جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ.
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی1 کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما.
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں1، یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں.
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا اس میں تو لوط (علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں1۔ لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے، البتہ وه عورت پیچھے ره جانے والوں میں سے ہے.2
پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے1۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی2 بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی.
ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں1 اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں.
البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا1 ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں.2
اور مدین کی طرف1 ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو2 اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو.3
پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وه اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مرده ہو کر ره گئے.1
اور ہم نے عادیوں اور ﺛمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ﻇاہر ہیں1 اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے.2
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے1 پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے.2
پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا1، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا2 اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا3 اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا4 اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا5، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے.6
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وه بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حاﻻنکہ تمام گھروں سے زیاده بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے1، کاش! وه جان لیتے.
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے
ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں1 انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں.2
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے1، ایمان والوں کے لیے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے.2
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے1 اور نماز قائم کریں2، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے3، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے4، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے.
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو1 مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں2 اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی3، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں.
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں1 اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں2 اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں.
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے1 اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے2 تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے.3
بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں1، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں.
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں1 میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ