سورہ 31 دیکھ رہے ہیں
سورہ 31 دیکھ رہے ہیں
Luqman
.31
Luqman
الم.1
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں.
جو نیکو کاروں کے1 لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے.
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں.1
یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں.1
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں1 کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں2، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.3
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں1، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے.
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں.
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده1 ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے.
اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم انہیں دیکھ رہے1 ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وه تمہیں جنبش نہ دے2 سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلا دیئے3۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسا کر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیئے.4
یہ ہے اللہ کی مخلوق1 اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ2 (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں.
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی1 تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر2 ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے.
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا1 بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے.2
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی1 ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر2 اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے3 کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.
اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا1 ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا.2
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو1 پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے.
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا1 (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے.
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا1 اور زمین پر اترا کر نہ چل2 کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا.
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر1، اور اپنی آواز پست کر2 یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے.
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے1 اور تمہیں اپنی ﻇاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں2، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں.3
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق1 پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو.
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے1 اور ہو بھی وه نیکو کار2 یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا3، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے.
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں1، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں2 کے بھیدوں3 تک سے واقف ہے.
ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے.1
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ1، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے2، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں.
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے1 یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز2 اور سزاوار حمد وﺛنا ہے.3
روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے1، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے.
تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا1، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے.
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے1، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے2، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے.
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں1 سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے.2
کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے1، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے2 کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں1۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں2، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں.3
لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے واﻻ ہوگا1 (یاد رکھو) اللہ کا وعده سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے.
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا1۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ