سورہ 36 دیکھ رہے ہیں
سورہ 36 دیکھ رہے ہیں
Ya-Sin
.36
Ya Sin
یٰس.1
قسم ہے قرآن باحکمت کی.1
کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں.1
سیدھے راستے پر ہیں.1
یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے.1
تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں.1
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے.1
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں.1
اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی1، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے.
اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں ﻻئیں گے.1
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں1 جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے.
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے1، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں2 اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے.3
اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجیئے جب کہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے.1
جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں.1
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو.
ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بےشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں.
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں1۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی.
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی1 ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو.
اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راه پر چلو.1
ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں.
اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے.1
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ وه مجھے بچا سکیں.1
پھر تو میں یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں.1
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا.1
(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا.
کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں سے کر دیا.1
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا1، اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں.2
وه تو صرف ایک زور کی چیﺦ تھی کہ یکایک وه سب کے سب بجھ بجھا گئے.1
(ایسے) بندوں پر افسوس1! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو.
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان کے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وه ان1 کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے.
اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وه جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی.1
اور ان کے لئے ایک نشانی1 (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زنده کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وه کھاتے ہیں.
اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے1، اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں.
تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں1، اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا2۔ پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے.
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں.1
اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وه یکایک اندھیرے میں ره جاتے ہیں.1
اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے1۔ یہ ہے مقرر کرده غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا.
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں1، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے.2
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے1 اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے2، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں.3
اور ان کے لئے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا.1
اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں.1
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں.
لیکن ہم اپنی طرف سے رحمت کرتے ہیں اور ایک مدت تک کے لئے انہیں فائدے دے رہے ہیں.
اور ان سے جب (کبھی) کہا جاتا ہے کہ اگلے پچھلے (گناہوں) سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.
اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں.1
اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو1، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا2، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں.3
وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ.
انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے.1
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ