سورہ 39 دیکھ رہے ہیں
سورہ 39 دیکھ رہے ہیں
Az-Zumar
.39
The Troops
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے.
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ1 نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.2
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے1 اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں2، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا3۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا.4
اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه1 وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ.
نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وه رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے1 اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقرره مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے واﻻ ہے.
اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے1، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا2 اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے3 وه تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا4 ہے تین تین اندھیروں5 میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو.6
اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے1، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا2۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے.
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے1 اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے.
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو1، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں2؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے).3
کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو1، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے2 اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے3 صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے.4
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں.
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں.1
کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے.
کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں.
تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے.
انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے1۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے2، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو.
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے.
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو1 اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں.2
بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے1، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟2
ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں1 (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے2 اور وه وعده خلافی نہیں کرتا.
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا1 ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا2 ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے3، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے.4
کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے1 اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں.
اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے1، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں2 آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں3، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں.
بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو.1
ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا.1
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزه چکھایا1 اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں.
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں.1
قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ وه پرہیزگاری اختیار کر لیں.1
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں1، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے2۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.3
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں.
پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے.1
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے1؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے2؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟
اور جو سچے دین کو ﻻئے1 اور جس نے اس کی2 تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں.
ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں1، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے.2
تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے.
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں1؟ یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ گمراه کر دےاس کی رہنمائی کرنے واﻻ کوئی نہیں.2
اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں1 کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟2
اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے توکیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے1، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں.2
کہہ دیجیئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں1، ابھی ابھی تم جان لوگے.
کہ کس پر رسوا کرنے واﻻ عذاب آتا ہے1 اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے.2
آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں.1
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت1 اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے2، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے3 اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے4۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.5
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں.1
کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے1۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے.
جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں1 جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں.2
آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے.1
اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں1، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا.2
جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی1 اور جس کا وه مذاق کرتے تھے اور وه انہیں آ گھیرے گا.2
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے1، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں2، بلکہ یہ آزمائش ہے3 لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں.4
ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی.1
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ