سورہ 41 دیکھ رہے ہیں
سورہ 41 دیکھ رہے ہیں
Fussilat
.41
Explained in Detail
حٰم.
اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے.*
(ایسی) کتاب ہے جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے1، (اس حال میں کہ) قرآن عربی زبان میں ہے2 اس قوم کے لیے جو جانتی ہے.3
خوش خبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ1 ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منھ پھیر لیا اور وه سنتے ہی نہیں.2
اور انہوں نے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں1 اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے2 اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب ہے، اچھا تو اب اپنا کام کیے جا ہم بھی یقیناً کام کرنے والے ہیں.3
آپ کہہ دیجیئے! کہ میں تو تم ہی جیسا انسان ہوں مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے1 سو تم اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو، اور ان مشرکوں کے لیے (بڑی ہی) خرابی ہے.
جو زکوٰة نہیں دیتے1 اورآخرت کے بھی منکر ہی رہتے ہیں.
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئیں اور بھلے کام کریں ان کے لیے نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے.1
آپ کہہ دیجئے! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی1، سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے.
اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے1 اوراس میں برکت رکھ دی2 اوراس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی3 (صرف) چار دن میں4، ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر.5
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے1 دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں.
پس دو دن میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی1 اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی2، یہ تدبیر اللہ غالب و دانا کی ہے.
اب بھی یہ روگرداں ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اور ﺛمودیوں کی کڑک ہوگی.
ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں.1
اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے1؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے2، وه (آخر تک) ہماری آیتوں3 کا انکار ہی کرتے رہے.
بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی1 منحوس دنوں میں2 بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے.
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی1 پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی2 جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا.3
اور (ہاں) ایماندار اور پارساؤں کو ہم نے (بال بال) بچا لیا.
اور جس دن1 اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ﻻئے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا.2
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کےپاس آجائیں گے اور ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی.1
یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی1، وه جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے.2
اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیده رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی1، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سےاعمال سے اللہ بےخبر ہے.2
تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا1 اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے.
اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ (عذر اور) معافی کےخواستگار ہوں تو بھی (معذور اور) معاف نہیں رکھے جائیں گے.1
اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشیں مقرر کر رکھے تھے، جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے1 تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وه زیاں کار ﺛابت ہوئے.
اور کافروں نے کہا اس قرآن کو سنو ہی مت1 (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اور بیہوده گوئی کرو2 کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ.3
پس یقیناً ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے۔ اور انہیں ان کے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے.1
اللہ کے دشمنوں کی سزا یہی دوزح کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے (یہ) بدلہ ہے ہماری آیتوں سے انکار کرنے کا.1
اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا1 (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں.2
(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے1 پھر اسی پر قائم رہے2 ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں3 کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو4 (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو.5
تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے1، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود﴾ ہے.
غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے.
اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں.1
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی1۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست.2
اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں1 اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا.2
اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناه طلب کرو1 یقیناً وه بہت ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے.2
اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں1، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو2 بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے3، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو.
پھر بھی اگر یہ کبر و غرور کریں تو وه (فرشتے) جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وه تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور (کسی وقت بھی) نہیں اکتاتے.
اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے1 پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے2 جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے3، بیشک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے.
بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں1 وه (کچھ) ہم سے مخفی نہیں2، (بتلاؤ تو) جو آگ میں ڈاﻻ جائے وه اچھا ہے یا وه جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے3؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ4 وه تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے.
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وه بھی ہم سے پوشیده نہیں) یہ1 بڑی باوقعت کتاب ہے.2
جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے.1
آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے1، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ2 اور دردناک عذاب واﻻ ہے.3
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے1 کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں2؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول3؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں ﻻتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں.4
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے1۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا2، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں.3
جو شخص نیک کام کرے گا وه اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔ اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں.1
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے1 اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے2 اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں.3
اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وه ان کی نگاه سے گم ہوگئے1 اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں.2
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں1 اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے.2
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار1 ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری2 ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ