سورہ 43 دیکھ رہے ہیں
سورہ 43 دیکھ رہے ہیں
Az-Zukhruf
.43
The Ornaments of Gold
حٰم.
قسم ہے اس واضح کتاب کی.
ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے1 کہ تم سمجھ لو.
یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت1 والی ہے.
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو.1
اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے.
جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا.
پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں1 کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے.2
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی1 پیدا کیا ہے.
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا)1 بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو.2
اسی نے آسمان سے ایک اندازے1 کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مرده شہر کو زنده کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے.2
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے1 بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو.
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو1 پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی2 طاقت نہ تھی.
اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں.1
اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا 1دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے.
کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا.*
(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے. 1
کیا (اللہ کی اوﻻد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟1
اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی.1
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں1، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔.
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں.1
(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں.
اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں.
(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے.1
پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو.
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا.1
اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات1 قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.2
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)1 دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا.2
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں.1
اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا.1
کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں1؟ ہم نے ہی ان کی زندگانیٴ دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے2 جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے.3
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں1 گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے.
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے.
اور سونے کے بھی1، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.2
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے1 ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے.2
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں.1
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے.1
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا.
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.1
پس اگر ہم تجھے یہاں سے1 لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں.2
یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے1 وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں.2
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں1 بیشک آپ راه راست پر ہیں.2
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ1 کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم1 نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟2
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.1
پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے.1
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی1 اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.2
اور انہوں نے کہا اے جادوگر1! ہمارے لیے اپنے رب سے2 اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے3، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے.4
پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا.
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ