سورہ 45 دیکھ رہے ہیں
سورہ 45 دیکھ رہے ہیں
Al-Jathiyah
.45
The Crouching
حٰم
یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے.
آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.
اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وه پھیلاتا ہے یقین رکھنے والی قوم کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں.
اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے1، (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں.2
یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان ﻻئیں گے.1
ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر.1
جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں1، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے.
وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے1، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہے.
ان کے پیچھے دوزخ ہے1، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ2 دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز3 بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے.
یہ (سر تاپا) ہدایت1 ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے.2
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا1 کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں2 چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ.3
اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے1۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے.
آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وه ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں1 رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے.2
جو نیکی کرے گا وه اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے1، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.2
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت1 اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزه (اور نفیس) روزیاں دی تھیں2 اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی.3
اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں1، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحﺚ سے ہی اختلاف برپا کر ڈاﻻ2، یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا.3
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا1، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں.2
(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے.
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں1 اور ہدایت ورحمت ہے2 اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے.
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے1، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں.
اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا.1
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا1 ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراه کردیا2 ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی3 ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پرده ڈال دیا4 ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے.5
کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے1۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے2، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں.
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ.1
آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زنده کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے.
اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی1۔ ہر گروه اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے1، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے.2
پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا1، یہی صریح کامیابی ہے.
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں1؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ.2
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں.1
اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں کھل گئیں اور جس کا وه مذاق اڑا رہے تھے اس نے انہیں گھیر لیا.1
اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو1 بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں.
یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا.1
پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے.
تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی1 ہے اور وہی غالب اور حکمت واﻻ ہے.
سورہ کا اختتام
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ