سورہ 68 دیکھ رہے ہیں
سورہ 68 دیکھ رہے ہیں
Al-Qalam
.68
The Pen
ن1، قسم ہے قلم کی اور2 اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.3
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.1
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.*
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.1
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.1
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.1
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.1
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.1
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.1
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.1
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا1 جس طرح ہم نے باغ والوں کو2 آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.3
اور انشاءاللہ نہ کہا.
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے.1
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی.1
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں.
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو.
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے.1
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے.*
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے.1
جب انہوں نے باغ دیکھا1 تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ2 بھول گئے.
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی.1
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟1
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے.1
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے.
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے.
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب1 اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں.
یوں ہی آفت آتی ہے1 اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی.2
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں.
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے.1
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب1 ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو.1
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟1
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں.1
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے.1
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی1، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.2
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے1 ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.2
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.1
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.1
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.1
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر1) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب2 کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.3
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.1
اسے اس کے رب نے پھر نوازا1 اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.2
The system theme automatically adapts to your light/dark mode settings
Quran.com کا ڈیفالٹ عثمانی انداز
پیش منظر
بِسْمِ ٱللَّهِ